بھارتی حکومت نے حالیہ دنوں میں ایک معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو 8,000 سے زائد اکاؤنٹس بند کرنے کا حکم دیا ہے، جن میں بین الاقوامی خبر رساں ادارے، نامور شخصیات اور صحافی بھی شامل ہیں۔
یہ اقدام بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔
تفصیلات:
سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ترجمان کے مطابق، بھارتی حکومت کی جانب سے موصول ہونے والی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ مخصوص اکاؤنٹس کو فوری طور پر بند کیا جائے، بصورت دیگر کمپنی کو بھاری جرمانوں اور اس کے مقامی ملازمین کی گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پلیٹ فارم کا مؤقف ہے کہ وہ بھارتی حکومت کے اس مطالبے سے اتفاق نہیں کرتا اور صرف بھارت میں ان اکاؤنٹس تک رسائی محدود کرے گا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ کمپنی قانونی چارہ جوئی کے تمام ممکنہ راستوں پر غور کر رہی ہے تاکہ آزادی اظہار اور عالمی قوانین کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت میں اظہار رائے کی آزادی سے متعلق خدشات عالمی سطح پر زور پکڑ رہے ہیں، اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی پالیسیوں پر تنقید کر رہی ہیں۔
تجزیہ:
بھارت کی جانب سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش کے اس حکم کو آزادی اظہار پر قدغن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ اقدام نہ صرف صحافیوں اور میڈیا اداروں کی آزادی کو متاثر کرتا ہے بلکہ عام شہریوں کے اظہار رائے کے حق کو بھی محدود کرتا ہے۔
اس صورتحال میں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور بین الاقوامی برادری کو مل کر آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معلومات کی آزادانہ ترسیل اور صحافتی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے۔