آسٹریلیا میں بچوں کے سوشل میڈیا پر بڑا کریک ڈاؤن، 47 لاکھ اکاؤنٹس بند

آسٹریلیا میں بچوں کے سوشل میڈیا پر بڑا کریک ڈاؤن، 47 لاکھ اکاؤنٹس بند

آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر عائد پابندی کے بعد سوشل میڈیا کمپنیوں کو تقریباً 47 لاکھ اکاؤنٹس بند کرنا پڑ گئے ہیں۔

 تاہم رپورٹس کے مطابق بعض بچوں نے پابندی سے بچنے کے لیے VPN، جعلی عمر اور متبادل ایپس کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔یہ قانون 10 دسمبر 2025 کو نافذ ہوا تھا، جس کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو پابند کیا گیا کہ وہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس نہ بنائیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں کمپنیوں کو 49.5 ملین آسٹریلین ڈالر تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔قانون کے نفاذ کے بعد سوشل میڈیا کمپنیوں نے اپنے کاروبار کو برقرار رکھنے کے لیے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس حذف کیے، جن کی مجموعی تعداد 4.7 ملین تک پہنچ گئی ہے۔

پابندی کی زد میں آنے والے پلیٹ فارمز
آسٹریلین پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون کے تحت فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ، یوٹیوب، ایکس، ریڈڈٹ، تھریڈز، ٹوئچ اور کِک پر بچوں کے اکاؤنٹس بنانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

کن ایپس کو استثنا حاصل ہے
حکومتی پالیسی کے مطابق بچوں کو گیمنگ اور میسجنگ ایپس استعمال کرنے کی اجازت ہے، جن میں واٹس ایپ، فیس بک میسنجر، میسنجر کڈز شامل ہیں۔ اسی طرح گیمنگ پلیٹ فارمز (Roblox، Discord) اور تعلیمی و صحت سے متعلق ایپس (Google Classroom، YouTube Kids، Kids Helpline) کو فی الحال پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ذمہ داری اور سزائیں
اس قانون کی خلاف ورزی پر بچوں یا والدین پر کوئی جرمانہ عائد نہیں ہو گا۔ مکمل ذمہ داری سوشل میڈیا کمپنیوں پر ہے، جو نابالغوں کی رسائی روکنے کے لیے معقول اقدامات کرنے میں ناکام رہنے کی صورت میں بھاری جرمانے کی زد میں آ سکتی ہیں۔کمپنیاں اب صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے ویڈیو سیلفیز، رویوں کے تجزیے اور سرکاری شناختی دستاویزات جیسے طریقے استعمال کر رہی ہیں۔

تازہ صورتحال (جنوری 2026)
حکام کے مطابق پابندی کے بعد صرف میٹا (فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز) نے 5 لاکھ 50 ہزار سے زائد اکاؤنٹس بلاک کیے، جبکہ مجموعی طور پر بند ہونے والے اکاؤنٹس کی تعداد حکومتی اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔

قانونی چیلنجز
ریڈڈٹ نے اس قانون کو آسٹریلیا کی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے، مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پابندی غیر مؤثر اور سیاسی اظہارِ رائے پر قدغن کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ دو نوعمروں نے بھی ڈیجیٹل فریڈم پروجیکٹ کی مدد سے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

بچے پابندی کیسے توڑ رہے ہیں
رپورٹس کے مطابق کئی بچے VPN استعمال کر کے، عمر کے بارے میں غلط معلومات دے کر اور Lemon8 و Yope جیسی متبادل ایپس کے ذریعے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں۔ اس پابندی کے بعد آسٹریلیا میں VPN اور بعض متبادل ایپس کے ڈاؤن لوڈز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ای سیفٹی کمشنر نے خبردار کیا ہے کہ اگر بچوں کی بڑی تعداد مستثنیٰ ایپس کی طرف منتقل ہوئی تو مستقبل میں انہیں بھی پابندی کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔