مودی کے خلاف مبینہ نازیبا پوسٹس، دہلی پولیس نے نیوز پورٹلز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو نوٹس جاری کر دیے

مودی کے خلاف مبینہ نازیبا پوسٹس، دہلی پولیس نے نیوز پورٹلز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو نوٹس جاری کر دیے

دہلی پولیس نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز اور نازیبا مواد شیئر کرنے پر متعدد نیوز پورٹلز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت کی ہے کہ احتجاج کے دوران شیئر کی گئی ایسی پوسٹس، ویڈیوز اور تبصرے فوری طور پر ہٹائے جائیں جن میں وزیرِ اعظم نریندر مودی یا سیکیورٹی فورسز کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی ہو۔دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی سائبر اور سوشل میڈیا ٹیمیں احتجاج سے متعلق آن لائن سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے مواد کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ حکام کے مطابق متعدد متنازع پوسٹس پہلے ہی ہٹوائی جا چکی ہیں جبکہ نگرانی کا عمل بدستور جاری ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی 20 جولائی کو ہونے والے 'چلو سنسد' مارچ کے بعد کی جا رہی ہے، جہاں نیٹ (NEET) اور سی بی ایس ای (CBSE) امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کے دوران طلبہ اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

دہلی پولیس کے مطابق ان مظاہروں میں 130 پولیس اہلکار اور 65 طلبہ زخمی ہوئے، جبکہ تشدد کے واقعات کے سلسلے میں 15 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ جنتر منتر اور اس کے اطراف میں روزانہ تقریباً 10 ہزار افراد جمع ہو رہے ہیں، جہاں 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس چہرہ شناخت کرنے والے نظام (Facial Recognition System) کے ذریعے احتجاجی مقام پر آنے والے افراد کی نگرانی بھی کر رہی ہے اور اب تک 2 ہزار سے زائد ایسے افراد کی شناخت کی جا چکی ہے جن کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں، بالخصوص کانگریس، نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی مبینہ "ضرورت سے زیادہ طاقت" کے استعمال پر فوری بحث کا مطالبہ کیا ہے۔