امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید مضبوط کرلی، لیزر ٹیکنالوجی سے لیس دو جدید بحری جنگی جہاز تعینات کردیئے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان جنگی جہازوں کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ڈرون حملوں اور میزائل خطرات سے نمٹنا ہے۔یہ جدید ڈسٹرائر لیزر سسٹمز سے لیس ہیں، جو ڈرونز، چھوٹے بحری اہداف اور بعض میزائلوں کو کم لاگت اور تیز رفتاری سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی روایتی میزائل دفاعی نظام کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور کم خرچ ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، ان جہازوں کو خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے قریب تعینات کیا گیا ہے، جہاں حالیہ مہینوں میں ایران، حوثی حملوں اور بحری سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان تعیناتیوں کا مقصد خطے میں اتحادی ممالک کے دفاع کو مضبوط بنانا اور عالمی بحری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز، کو محفوظ رکھنا ہے۔