امریکی سینٹرل کمانڈ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پیش نظر جدید ہائپرسونک میزائل سسٹم ڈارک ایگل کی تعیناتی کی تجویز دی ہے، جس کا مقصد ایران کے دور دراز میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے۔
اگر یہ منصوبہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے، تو یہ امریکہ کے لیے ہائپرسونک ٹیکنالوجی کے میدان میں عملی استعمال کا پہلا موقع ہوگا۔رپورٹس کے مطابق، یہ پروگرام کچھ عرصے سے تاخیر کا شکار رہا ہے، مگر حالیہ پیش رفت اسے دوبارہ اہمیت دے رہی ہے، کیونکہ ایران نے اپنے میزائل لانچرز کو ایسے مقامات پر منتقل کیا ہے جو روایتی میزائل رینج سے باہر ہیں۔ایران کے میزائل 300 میل سے زیادہ فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جس کے جواب میں امریکہ جدید اور تیز رفتار ہائپرسونک میزائل پر غور کر رہا ہے، جن کی ممکنہ رینج 1,700 میل سے زائد ہے اور جو آواز کی رفتار سے کئی گنا تیز سفر کر سکتے ہیں۔ڈارک ایگل کی خصوصیت ہے کہ یہ دوران پرواز اپنا راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے دفاعی نظاموں کے لیے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔حالیہ تخمینوں کے مطابق، اس نظام کی ایک میزائل کی قیمت کروڑوں ڈالرز اور مکمل بیٹری سسٹم کی لاگت اربوں ڈالر تک ہو سکتی ہے۔امریکی فوج نے اس معاملے پر باضابطہ تبصرہ سے گریز کیا ہے۔یاد رہے کہ روس اور چین پہلے ہی ہائپرسونک ہتھیاروں میں پیش رفت کر چکے ہیں۔