اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کسٹمز کے جانچ پڑتال اور تخمینہ کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ اور فیس لیس (faceless) بنایا جائے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسٹمز نظام کی بہتری اور جدت کا مقصد برآمدات و درآمدات سے منسلک کاروباری حضرات کو سہولت فراہم کرنا اور ملکی ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں کسٹمز کے نظام میں اصلاحات، مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک مینیجمنٹ سسٹم کی جلد فعال ہونے، اور جانچ پڑتال میں سکینرز اور AI کے استعمال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں سے غیر قانونی اشیاء کی ترسیل میں کمی اور قانونی کسٹم کلیئرنس میں اضافہ ہوا ہے۔شہباز شریف نے ہدایت کی کہ کسٹمز کے جانچ پڑتال اور تخمینہ کے لیے انتظامی کارروائیوں کا وقت کم سے کم کیا جائے اور اصلاحات کے مؤثر نفاذ کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی ہم آہنگی اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں۔
انہوں نے کہا کہ معاشی اور تجارتی اصلاحات کے ذریعے کاروبار اور سرمایہ کاری میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور بین الاقوامی معیار کی بہترین حکمت عملی سے فائدہ اٹھایا جائے۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ کسٹمز تخمینے پر کاروباری حضرات کی نظرثانی اپیلیں غیر جانبدار افسران کے سپرد کی جائیں اور کسٹمز حکام کو شفافیت، ٹیکس کلیکشن میں اضافہ اور کاروباری سہولت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر اکنامک افیئرز ڈویژن احد خان چیمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔