امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی تیز رفتار حملہ آور کشتیوں کو محاصرے کے قریب پہنچنے کی کوشش ہوئی تو انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔
امریکا نے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے گرد بحری ناکہ بندی کے لیے 15 سے زائد جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں۔ اس کارروائی کے تحت، امفیبیئس اسالٹ شپ یو ایس ایس ٹرپولی (LHA 7) بحیرۂ عرب میں ایف-35 بی لائٹننگ II اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں اور ایم وی-22 اوسپرے طیاروں کے ساتھ آپریشن کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ یہ ناکہ بندی غیر جانب دارانہ طور پر تمام ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں، بشمول خلیج فارس اور خلیج عمان میں داخل یا خارج ہونے والے جہازوں پر نافذ کی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز سے غیر ایرانی بندرگاہوں کے لیے آنے جانے والی کشتیوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گی۔
سینٹ کام کے مطابق، یو ایس ایس ٹرپولی (LHA 7) بحیرۂ عرب میں سفر کے دوران رات کے وقت پروازیں انجام دے رہا ہے، اور اسے روایتی ویل ڈیک کے بغیر ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ مزید ایف-35 بی، ایم وی-22 اوسپرے، ہیلی کاپٹروں اور دیگر مرمتی سہولیات کے لیے جگہ فراہم کی جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ کا بڑا حصہ پہلے ہی جنگ میں تباہ ہو چکا ہے، اور کہا کہ 158 ایرانی جہاز سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ان تیز رفتار حملہ آور کشتیوں کو نشانہ نہیں بنایا کیونکہ ہم انہیں بڑا خطرہ نہیں سمجھتے تھے، لیکن اگر وہ ہمارے محاصرے کے قریب آئیں تو انہیں فوراً ختم کر دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اسلام آباد مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہ ہونے کے بعد، امریکی صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔