امدادی قافلے فلوٹیلا کو روکنا جنگی جرم ،ہزاروں فلسطینی علاج کیلئے غزہ سے نکلنے کے منتظر ہیں
غزہ(آئی این پی )غزہ کی جانب امدادی سامان لے جانے والے بحری بیڑے کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں تیز ہوگئیں، فلوٹیلا ٹریکر کے مطابق اسرائیلی فوج نیانڈروس نامی کشتی کو غزہ سے 82 ناٹیکل میل دور روک لیا، جبکہ اب تک گلوبل صمود فلوٹیلا کی 61 کشتیوں کو مختلف کارروائیوں میں روکا جا چکا ہے۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت بھی 9 امدادی کشتیاں غزہ کی جانب رواں دواں ہیں۔ دوسری جانب امدادی بحری بیڑے پر اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔فلوٹیلا منتظمین اور سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں نے کم از کم دو کشتیوں پر فائرنگ کی۔ لائیو اسٹریمنگ میں اسرائیلی فورسز کو کشتیوں کی جانب فائر کرتے دیکھا گیا، تاہم استعمال ہونے والے گولہ بارود کی نوعیت فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی۔اسرائیلی وزارت خارجہ نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے دعوی کیا کہ کارروائی کے دوران لائیو گولیاں استعمال نہیں کی گئیں۔اسرائیلی حکام کے مطابق متعدد انتباہات کے باوجود کشتیوں نے پیش قدمی جاری رکھی جس پر انہیں روکنے کے لیے غیر مہلک ذرائع استعمال کیے گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کا مقصد کشتی کو خبردار کرنا تھا، مظاہرین یا کارکنوں کو نشانہ بنانا نہیں۔اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ واقعے میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں، تاہم فلوٹیلا منتظمین نے اسرائیلی اقدام کو انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب فلسطینی وزارت خارجہ نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے بحری قافلے فلوٹیلا کو اسرائیل کی جانب سے روکے جانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا ہے۔وزارتِ خارجہ برائے فلسطین و تارکین وطن نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے امدادی جہازوں کی روک تھام ایک نیا جرم ہے جس کا مقصد غزہ کی پٹی میں اسرائیلی نسل کشی اور بھوک و افلاس جیسے جرائم کو چھپانا ہے، اس کارروائی کو مکمل بحری قزاقی اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔فلسطینی وزارت نے ان افراد کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی ہے جنہیں اسرائیلی فورسز نے جہازوں کو روکنے کے بعد حراست میں لیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور یورپی یونین فوری طور پر اسرائیل پر پابندیاں عائد کریں اور بین الاقوامی پانیوں میں مبینہ جرائم پر اس پر دبا ڈالیں کہ وہ غزہ کا محاصرہ ختم کرے۔ ادھر غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ ہزاروں فلسطینی مریض اب بھی بیرون ملک علاج کیلئے غزہ سے نکلنے کے منتظر ہیں، جبکہ محدود تعداد میں مریضوں کو ہی سرحد پار جانے کی اجازت مل رہی ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق ایک دن میں صرف 29 مریض مصر کے ساتھ واقع جنوبی رفاہ کراسنگ کے ذریعے علاج کی غرض سے غزہ سے باہر جا سکے ہیں۔وزارت نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں بتایا کہ اس سے ایک روز قبل بھی صرف 20 مریضوں کو اردن کے ہسپتالوں میں علاج کیلئے روانہ کیا گیا تھا۔غزہ سے باہر جانے والے مریضوں کی کم تعداد ان مریضوں کی فوری ضرورت پوری نہیں کرتی جو فہرستوں میں شامل ہیں اور شدید طبی و انسانی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، خصوصا ایسے وقت میں جب غزہ میں صحت کا بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔وزارت صحت نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مریضوں کے طبی انخلا کے عمل کو تیز کیا جائے اور انہیں محفوظ طریقے سے غزہ سے باہر مخصوص ہسپتالوں تک پہنچانے کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔