’’چاردن،ایک صدی کاسبق‘‘

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
یہی وہ حکمت ہے جوجدیدجنگ میں برتری کاتعین کرتی ہے۔یہ اقدام ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتاہے کہ جدید جنگ میں برتری اسی کوحاصل ہوتی ہے جوفاصلے کواپنی قوت بنالے۔ڈرون وارفیئریونٹ کاقیام اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ جنگ اب خاموشی کے پردے میں لڑی جارہی ہے۔دراصل اس یونٹ کاقیام جدیدجنگ کے اس نئے باب کی علامت ہے جہاں سپاہی کی جگہ مشین لے رہی ہے،اورمحاذکی جگہ آسمان۔ڈرونزکی پروازیں بظاہر خاموش ہوتی ہیں،مگران کااثرگرجتے ہوئے طوفان سے کم نہیں ہوتا۔پاکستان کی جانب سے اس یونٹ کی تشکیل اوراس کی عملی مشقیں اس امرکی دلیل ہیں کہ ملک جدیدجنگی تقاضوں اوررحجانات کوسمجھ رہاہے اوران کے مطابق خودکوڈھال رہاہے۔
ڈرونزکی سب سے بڑی خصوصیت ان کی خاموشی اوردرستگی ہے۔یہ نہ صرف نگرانی کرتے ہیں بلکہ حملہ آوربھی ہوسکتے ہیں۔گویا یہ ایک ایساہتھیارہے جودیکھتابھی ہے اورمارتابھی ہے اوریہ دونوں کام بیک وقت کرتاہے۔اوریہی دوہری صلاحیت انہیں ایک منفرد ہتھیاربناتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں ڈرونزکاکردارفیصلہ کن ہوسکتاہے۔یہ گویا وہ خاموش سپاہی ہیں جونہ تھکتے ہیں، نہ ڈرتے ہیں،اورنہ ہی اپنی موجودگی کااعلان کرتے ہیںمگرجب حرکت میں آتے ہیں توتاریخ کادھارابدل دیتے ہیں۔
پاکستان کی بحریہ نے بھی اس جنگ کے بعداپنی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں اورصلاحیتوں میں اضافہ کیاہے۔نئے جہازوں کی شمولیت اورہنگورکلاس آبدوزکااضافہ اس بات کی علامت ہے کہ سمندری دفاع کومرکزی حیثیت دی جارہی ہے۔پاکستان سمندری حدود کے تحفظ کوبھی اتنی ہی اہمیت دیتاہے جتنی زمینی سرحدوں کو۔سمندرہمیشہ سے تجارت اور طاقت کامرکزاوراستعارہ رہے ہیں۔جو قوم سمندروں پراپنی موجودگی مضبوط رکھتی ہے،وہ نہ صرف اپنی سرحدوں کاتحفظ کرتی ہے بلکہ عالمی تجارت ومعیشت میں بھی اپنامقام مستحکم بناتی ہے۔پاکستان کی بحری حکمت عملی اسی اصول پر مبنی ہیکہ سمندرصرف پانی نہیں بلکہ طاقت کاراستہ ہیں۔
جدیدجنگ میں سب سے بڑی برتری وہ ہے جونظرنہ آئے۔سٹیلتھ طیارے اسی فلسفے اورتصورکی عملی شکل ہیں۔پاکستان کی جانب سے جدیدسٹیلتھ طیاروں کے حصول کی کوششیں اس بات کی دلیل ہے کہ ملک مستقبل کی جنگی ضروریات کومدنظررکھ رہاہے۔یہ طیارے دشمن کے ریڈارسے اوجھل رہ کرحملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،اوریہی ان کی سب سے مؤثراوربڑی طاقت ہے۔گویایہ وہ سایہ ہیں جو نظرنہیں آتا،مگرجب گزرتاہے تواپنے اثرات چھوڑجاتاہے۔
پاکستانی عسکری قیادت نے واضح کردیاہے کہ مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنزپرمشتمل ہوں گی۔اس کامطلب یہ ہے کہ جنگ بیک وقت مختلف میدانوں میں لڑی جائے گی، سائبر ،فضا،زمین،اورخلاتک۔یہ تصورایک ہمہ جہت نظام کے طورپردیکھنے کی دعوت دیتا ہے کہ جنگ اب ایک پیچیدہ نظام بن چکی ہے جہاں ہرعنصردوسرے سے جڑاہواہے۔ کامیابی اسی کوملے گی جواس پیچیدگی کوسمجھ کر اسے اپنے حق میں استعمال کرے۔اب جنگ صرف میدانِ کارزارتک محدودنہیں بلکہ سائبر،خلا،اوراطلاعاتی دنیاتک پھیل چکی ہے۔ کامیابی اسی کوحاصل ہوگی جوان تمام میدانوں میں بیک وقت برتری حاصل کرے۔
سائبروارفیئراورآرٹیفیشل انٹیلی جنس کابڑھتاہواکرداراس بات کی علامت ہے کہ جنگ اب ڈیجیٹل دنیامیں بھی منتقل ہوچکی ہے۔اب دشمن کے نظام کومفلوج کرنا،اس کی معلومات تک رسائی حاصل کرنا،اوراس کی حکمت عملی کوسمجھنااورقبل ازوقت جان لیناممکن ہوچکا ہے۔یہ وہ میدان ہے جہاں گولی نہیں چلتی،مگرنتائج تباہ کن ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان ا میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کوبڑھا رہاہے اورخطے میں اپنی برتری کاسکہ منواچکاہے۔
چارروزہ جنگ نے پاکستان کویہ سبق دیاکہ اسے طویل فاصلے تک مارکرنے والے ہتھیاروں اورراکٹ سسٹمزکی ضرورت ہے۔یہ وہ خلا تھاجسے اب پرکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں اپنی غلطیوں سے سیکھتی ہیں اورخود کوبہتر بناتی ہیں اور اپنی کمزوریوں کوطاقت میں بدلتی ہیں۔پاکستان کے پاس موجوداسٹریٹجک میزائل جوہری صلاحیت رکھتے ہیں،مگران کا استعمال محدود ہے۔اسی لیے روایتی جنگی صلاحیتوں کوبڑھاناضروری ہے۔جس کیلئے روایتی جنگ کیلئے نئے ہتھیاروں کی ضرورت محسوس کی گئی۔ یہ توازن برقراررکھنانہایت ضروری ہے،کیونکہ ایک غلط تاثربھی بڑے تصادم کوجنم دے سکتاہے اورایک معمولی غلط فہمی بھی بڑے تصادم کوجنم دے سکتی ہے۔
پاکستان کاڈرون پروگرام تیزی سے ترقی کررہاہے۔میدان اسٹرائیک جیسی مشقیں اس بات کی علامت ہیں کہ ملک اس میدان میں خودکو مضبوط اورخودکفیل ہونے کی کوشش کررہا ہے۔ڈرونزنہ صرف نگرانی بلکہ حملے کیلئے بھی استعمال ہوسکتے ہیں،جوانہیں ایک کثیر المقاصدہتھیاربناتاہے۔پاکستانی فضائیہ جدید طیاروں کے حصول کی طرف بڑھ رہی ہے۔یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ ملک اپنی فضائی برتری کوبرقراررکھناچاہتاہے۔فضائی طاقت ہمیشہ جنگ میں فیصلہ کن کرداراداکرتی ہے،اوریہی وجہ ہے کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔فضاسے لانچ کیے جانے والے میزائلوں کے تجربات اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان اپنی میزائل ٹیکنالوجی کومزیدبہتربنانے کیلئے انتہائی کامیابی کے
ساتھ جدیدخطوط پراستوارکررہاہے۔یہ ہتھیاردشمن کے اہم اہداف کودورسے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہنگورکلاس آبدوزاورجدیددفاعی نظاموں کی شمولیت پاکستان کی بحری قوت کومزیدمضبوط بناتی ہے۔یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ ملک اپنی سمندری حدودکے تحفظ کیلئے سنجیدہ ہے اورمستقبل میں کسی بھی چیلنج کامقابلہ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیارہے۔یہ تمام معلومات پاکستان کی عسکری حکمت عملی کی ایک ایسی جامع اورمتحرک تصورکوپیش کرتی ہیں جس میں پاکستان کی عسکری حکمت عملی،اس کی بصیرت،اوراس کاعزم واضح طورپرجھلکتاہے۔اوریہ واضح ہوتاہے کہ ملک نہ صرف ماضی کے تجربات سے سیکھ رہاہے بلکہ مستقبل کے چیلنجزکیلئے بھی خودکوتیارکررہاہے۔
یہ داستان دراصل ایک قوم کے عزم،اس کی بصیرت،اوراس کے دفاعی شعورکی کہانی ہے،ایک ایسی کہانی جوہمیں یہ نہ صرف یہ سبق دیتی ہے کہ امن کی ضمانت صرف خواہش سے نہیں بلکہ تیاری سے حاصل ہوتی ہے بلکہ یہ داستان ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ فکر،حکمت،اورعزم سے مضبوط ہوتی ہیںاوریہی عناصرپاکستان  کے دفاعی سفرکوایک نئی سمت دے رہے ہیں۔
اس تحقیقی وتجزیاتی مطالعے کے اختتام پریہ حقیقت روزِروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ جدیدجنگ محض اسلحے اوروسائل کی دوڑنہیں بلکہ حکمت،بصیرت اورعزم کاامتحان بھی ہے ۔ پاکستان نے مئی کے اس مختصرمگرفیصلہ کن معرکے میں یہ ثابت کردکھایاکہ اگرقوم کاحوصلہ بلندہو،قیادت مستحکم ہو،اورعسکری تیاری بروقت ہو تومحدودوسائل بھی بڑی قوتوں کے سامنے ڈٹ سکتے ہیں۔یہی وہ سبق ہے جوتاریخ ہمیں باربارسکھاتی ہے کہ فتح کادارومدارصرف ہتھیاروں پرنہیں بلکہ ان ہاتھوں پرہوتاہے جوانہیں تھامتے ہیں، اوران دلوں پر جو ان میں یقین کی حرارت رکھتے ہیں۔پاکستان کی کامیابی نے دنیاکویہ پیغام دیاکہ جذبہ قربانی،ایمانی حرارت،اورقومی یکجہتی وہ عناصرہیں جومادی کمزوریوں کوبھی طاقت میں بدل سکتے ہیں۔
تاہم اس کامیابی کومحض ایک جشن کے طورپردیکھنادانشمندی نہیں ہوگی۔یہ دراصل ایک ذمہ داری ہے،ایک ایساتقاضاجوہمیں مسلسل تیاری،تحقیق، اوربہتری کی طرف متوجہ کرتاہے ۔ اسی احساس کے تحت اس رپورٹ میں دونوں ممالک کی عسکری حکمت عملیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے،تاکہ پاکستان کے عوام،پالیسی ساز،اورعسکری حلقے اس بدلتے ہوئے جنگی منظرنامے سے پوری طرح آگاہ ہوسکیں۔
یہ امربھی پیشِ نظر رہناچاہیے کہ اسلامی تعلیمات میں بھی دشمن کے مقابلے کیلئے ہروقت تیاری کاحکم دیاگیاہے۔قرآنِ حکیم کایہ پیغام محض ایک مذہبی ہدایت نہیں بلکہ ایک عملی اصول ہے،جوہمیں یہ سکھاتا ہے کہ امن کی خواہش کے ساتھ ساتھ دفاع کی تیاری بھی لازم ہے۔یہی وہ توازن ہے جوایک قوم کومحفوظ، باوقاراورخودمختاربناتا ہے۔پس،اس مطالعے کا حاصل یہی ہے کہ پاکستان کواپنی حالیہ کامیابی کوایک سنگِ میل سمجھتے ہوئے آگے بڑھناہوگامزیدتحقیق،جدیدٹیکنالوجی،اورقومی یکجہتی کے ساتھ۔ کیونکہ تاریخ ان ہی قوموں کویاد رکھتی ہے جواپنی کامیابیوں پررکتی نہیں بلکہ انہیں نئی بلندیوں کازینہ بنالیتی ہیں۔