20 ویں صدی عیسوی میں عالم

انتظار احمد سدید
 اسلام میں جو خطاط گزرے ہیں ان میں عبدالعزیز الرفاعی ،حسن آفندی ،سید ابراہیم مصری ،محمد حسنی ،سید محمد علی حطار افغانی ہاشم بغدادی ،اسماعیل حقی ،محمد حسنی اور سید داؤد الحسینی افغانی ایسے عالمی شہرت یافتہ خطاطوں نے اپنے فن اور زود نویسی کی بدولت بہت نام پیدا کیا ہے   _ان  کی انفرادیت یہ تھی کہ وہ عربی کے تین یا چار رسم الخط لکھنا جانتے تھے _لیکن ان کے مقابلے میں پاکستان کے نامور خطاط حافظ محمد یوسف سدیدی قدیم و جدید ادوار کے جملہ خطوط اور خفی وجلی نویسی کے یکساں ماہر تھے _اپنی زود نویسی اور کثرت نویسی کہ متنوع خدوخال کی بدولت ان کی نظیر دور دور تک عالم اسلام میں نظر نہیں اتی _مشاہیر اسلام  اور ادبی شخصیات خصوصا مولانا ابوالکلام ازاد ،مولانا سید ابو الاعلی مودودی،چراغ حسن حسرت ،احمد ندیم قاسمی ،حنیف رامے ،،سید انور حسین نفیس رقم ،یوسف دہلوی اور صوفی خورشید عالم خورشید رقم ایسے فن خطاط سے اگاہی رکھنے والے لوگ "فن سدیدی "کے نہ صرف مداح رہے بلکہ انھوں نے مختلف مواقوں پر ان کے بارے میں جو آراء￿  پیش کی وہ آب زر سے لکھی جانی چاہیے -   شاہ فہد ،رضا شاہ پہلوی ،ملکہ ثریا اور  جمال ناصر ایسے حکمران   ان کے قدر دانوں میں شامل تھے - _خواجہ قمر الدین سیالوی ،غلام سدید الدین معظمی ،خواجہ حمید الدین معظمی ،غلام نظام الدین معظمی اور صوفی برکت علی لدھیانوی ایسے روحانی جاہ و جلال والے لوگ آپ کے فن کو قدر دان  رہے ہیں  - یہی وجہ ہے کہ اہل فن  انھیں ہفت قلم خطاط ،رہیس القلم ،خطاط پاکستان ،خطاط اعظم ،آفتاب فن ،امام الخطاطین ،سلطان الخطاطین ایسے روح پرور خطابات سے نوازتے رہے -
یہ بات خوش آئند ہے کہ عالمی شہرت یافتہ خطاط حافظ محمد یوسف سدیدی کے احوال وآثار پر تحقیقی کام کرنے کا شرف  اس ہستی کو ہوا جو  علمی دنیا میں تحقیق کے حوالے سے ایک معتبر حوالہ ہیں _ڈاکٹر انجم رحمانی کی کتب بین الاقوامی شہرت کے حامل اداروں : یونیسکو ،آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس ،مارگ اور مقامی اداروں کی طرف سے شائع ہوکر  پذیرائی حاصل کر چکی ہیں _گرچہ  شاعری ان کی زندگی میں اضافی حثیت رکھتی ہے لیکن ان کی شاعری  کا  ایک عالم معترف ہے _ ڈاکٹر انجم رحمانی کا تعلق حافظ محمد  یوسف سدیدی سے اس حد تک مستحکم تھا کہ انھوں نے "سلطان الخطاطین حافظ محمد یوسف سدیدی "کتاب لکھ کر ایک سوانح نگار ہونے کا حق ادا کردیا _کتاب 427 صفحات پر مشتمل ہے جن میں 379 صفحات معنوی حوالے سے حبکہ 48 صفحات صوری حوالے سے قابل شتائش ہیں _ان 48 صفحات میں اعلی کوالٹی کے دیدہ زیب کاغذ پر ان تمام تصاویر کو سمویا گیا ہے جو خطاط کی خطاطی کا شاہکار ہیں _یہ تصاویر تاریخی عمارتوں، کتابوں ،اخبارات اور رسائل وجرائد سے کیمیرے کی مدد سے حاصل کی گئی ییں ان میں وہ خوب صورت خطاطی کے شاہکار بھی شامل ہیں جو مختلف اوقات میں حافظ صاحب نے مختلف  اخبارات کی پیشانی کے لئے لکھے تھے  _  _جب ڈاکٹر انجم رحمانی" نیشنل میوزیم لاہور" کے ڈائریکٹر جنرل تھے  ان کا حافظ محمد یوسف سدیدی سے دوستی کا رشتہ  قائم ہواتھا  _ڈاکٹر انجم رحمانی نے جدید تحقیقی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے حافظ محمد یوسف سدیدی  کی شخصیت، احوال و آثار پر یہ کتاب مرتب کی ہے _
ڈاکٹر انجم رحمانی کے مطابق، حافظ محمد یوسف سدیدی  اعوان قبیلے سے تعلق رکھتے تھے  _وہ 1926 کے اوائل میں چکوال  سے اٹھ نو میل دور بھون جیسے دور افتادہ  علاقے میں پیدا ہوئے  _ان کا نام یوسف رکھا گیا بعد میں اپنے مرشد کے نام کی وجہ سے سدیدی کہلائے _ان کا روحانی تعلق حضرت سدید الدین معظمی سے تھا جو خواجہ معظم الحق مورولہ شریف والوں کے پوتے تھے  _یہ خانوادہ حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کہ خلفاء￿  کا ہے _ حافظ محمد یوسف سدیدی نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی گاؤں کے پرائمری سکول سے حاصل کی، پھر کمہاراں والی مسجد کے امام حافظ عبدالرحمن سے قران حفظ کرنا شروع کیا _ان کی شہادت کے بعد دوسری مقامی مسجدجدھڑاں والی میں حافظ لال حسین سے حفظ کرنے لگے
_ 14 سپارے حفظ کرنے کے بعد کھیوڑہ میں مقصر شاہ کے ادارے میں داخل ہوئے  _یہاں ڈیڑھ سال کے لگ بھگ قران پاک کے ساتھ ساتھ عربی فارسی بھی پڑھی _حافظ مقصر شاہ کے کمرے میں آویزہ فارسی زبان کا ایک قطعہ حافظ یوسف کے خطاط  بننے کا سبب بنا _وہ اسے  بڑھتے ، اس کی کتابت کو غور سے دیکھتے _ ایک دن ان کی ملاقات اس کے کاتب کرم دین سے ہوئی _اور ان سے کتابت
سیکھنے کا اشتیاق ظاہر کیا _ وہ چھٹی کے دن  کرم دین کی بیٹھک میں چلے جاتے
_ قلم مسطر اور سیاہیاں دیکھتے اور ان کے بارے میں گفتگو کرتے_ڈاکٹر انجم رحمانی کے مطابق حافظ محمد یوسف سدیدی یہاں سے  لاہور چلے گئے جہاں مولوی عبدالرشید صاحب محبوب رقم ،منشی عبدالمجید پروین رقم، منشی محمد قاسم لدھیانوی سلطان القلم کے صاحبزادگان :منشی شفیع لدھیانوی اور منشی محمد شریف لدھیانوی ،استاد زری رقم ایسے نابغہ  روزگار ہستیوں سے کتابت کا فن سیکھنے لگے _ محمد یوسف پشاور میں ایم ایم شریف آرٹسٹ کی صحبت میں بھی رہے _ انہوں نے دہلی کا سفر بھی  کیا جہاں حافظ محمد تقی، منشی شفاعت احمد دہلوی، حافظ محمد یوسف دہلوی، منشی محمود احمد دہلوی، فاطم? الکبری اور انوری بیگم اور دیگر فن خطا  سے راہ نمائی  لیتے رہے  _انہوں نے دلی شہر میں موجود عمارات: مسجد قوت الاسلام،قطب  مینار، اڑھائی دن کا جھوپڑا، مقبرہ سلطان شمس الدین التمش اور غازی خان شہزادے کے مقبرے پر کی گئی خطاطی کو دوربین نظروں سے دیکھا ،اور ان  کے قطعات سے بھی استفادہ کیا _انہوں نے خواجہ معین الدین چشتی، خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، حمید الدین ناگوری ،بدرالدین غزنوی، نجیب الدین متوکل، نظام الدین اولیاء￿ ، حضرت باقی باللہ کے علاوہ اور بہت سے بزرگوں کے مزارات کی زیارات کی ، ان پر نصب کتبوں کو پڑھ کر ان سے اس فن کے حوالے سے آشنائی  حاصل کی _ ڈاکٹر انجم رحمانی نے  ان فن پاروں کا ذکر بھی کتاب مذکورہ میں کیا ہے جو حافظ محمد یوسف سدیدی کی توجہ اور دلچسپی کا باعث رہے _ان میں خط نستعلیق کے نامور اساتذہ عبدالرشید ویلمی، میر پنجہ کش، اغا مرزا رحیم اللہ ایسے اساتذہ کے  قلمی  شاہکاروں  نے حافظ صاحب کے لئے خطاطی سیکھنے میں ایک ہنر مند استاد کا کام دیا _حافظ محمد یوسف سدیدی  نے 1946 میں جمعیت علمائے ہند کی کانفرنس دہلی میں پڑھے گئے  مولانا ابو الکلام ازاد کے صدارتی خطبہ کو جو عربی میں تھا لکھ کر مولانا آزاد سے  داد حاصل کی _ 14 اگست 1947 کو تقسیم ہند کے بعد محمد یوسف سدیدی پاکستان چلے آئے _
ڈاکٹر انجم رحمانی  نے کتاب  مذکورہ کا پہلا حصہ حافظ محمد یوسف سدیدی کی حیات کے لئے مختص کیا ہے _انہوں نے حافظ محمد یوسف کے لاہور میں قیام ،امروز میں ملازمت، کابل کے اسفار ،سعودی عرب میں ملازمت اور حادثہ، علاج معالجہ انکی وفات ، تدفین اور تعزیتی پیغامات جیسے معاملات  کو بھی کتاب میں شامل کیا ہے _
اس کے علاوہ حافظ صاحب کے فن خطاطی کے بارے میں نظریات ،فن خطاطی کے حوالے سے ان کی کاوشیں اور اعزازات ،حافظ صاحب کے قلمی آثار ،علمی وخطی آثار ،خطوط و رقعات بنام حافظ صاحب اور حافظ صاحب کے فن خطاطی مشاہیر کی نظر میں ایسے عنوانات باندھ کر کتاب کی اہمیت کو دو چند کر دیا ہے _ سلطان الخطاطین ،حافظ محمد یوسف سدیدی ،شخصیت احوال و اآثار اور فکر و فن ،ڈاکٹر انجم رحمانی کی وہ شاہکار کتاب ہے جو انہیں ایک کامیاب سوانح نگار کے طور پر علمی وادبی دنیا میں متعارف کرواتی ہے _کتاب ہر لحاظ سے قابل تعریف ہے _ مطالعے کے لیے  اس کا پاکستان کی  معروف لائبریریوں میں ہونا بہت ضروری ہے  _