’’چاردن،ایک صدی کاسبق‘‘

سمیع اللہ ملک دوسری قسط
انڈین فوج نے اس جنگ کے بعداپنی تنظیمِ نوکاآغازکیاہے،جس کے تحت انٹیگریٹڈ بیٹل تھیٹرگروپس تشکیل دیے جارہے ہیں۔یہ ایک ایسا تصورہے جس میں بری،بحری، اورفضائی افواج ایک مشترکہ کمان کے تحت کام کریں گی۔یہ تبدیلی دراصل اس حقیقت کااعتراف ہے کہ جدیدجنگ میں تنہاقوت بے معنی ہے؛کامیابی کارازاشتراک اورہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔جس طرح ایک آرکسٹرامیں ہرسازاپنی جگہ اہم ہوتاہے،اسی طرح جنگ میں ہرفورس کامربوط کردارفیصلہ کن ثابت ہوتاہے۔آپریشن سندورکے دوران جومشترکہ کنٹرول سسٹم قائم کیاگیا،وہ دراصل اسی نئے نظریے کی عملی جھلک تھا۔مختلف افواج کاایک پلیٹ فارم پرآنااورمربوط اندازمیں فیصلے کرنااس بات کی دلیل ہے کہ جنگ اب انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی حکمت کاکھیل بن چکی ہے۔یہ ماڈل مستقبل میں جنگی منصوبہ بندی کابنیادی ستون بن سکتاہے،جہاں فیصلہ سازی کی رفتاراوردرستگی ہی جنگ کافیصلہ کرے گی۔
نئی حکمت عملی کے تحت انڈیانے دفاعی پیداوارمیں نجی شعبے کی شمولیت کوفروغ دیاہے۔اس کے ساتھ ساتھ تحقیق وترقی کے ادارے بھی نئے ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہیں۔یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ جنگ اب صرف ریاستی اداروں کامعاملہ نہیں رہی بلکہ معیشت،صنعت،اورٹیکنالوجی کے اشتراک سے ایک نیانظام تشکیل پارہاہے۔گویااب ہرفیکٹری،ہرلیبارٹری،اورہرانجینئرجنگی مشین کاحصہ بن چکاہے۔
بیلسٹک میزائلوں کے نئے تجربات،جدیدفضائی دفاعی نظام،نئے ڈرونز،اورجنگی جہازوں کی خریدارییہ سب اس بات کاثبوت ہیں کہ خطے میں اسلحے کی دوڑایک نئی شدت اختیارکر چکی ہے۔یہ دوڑبظاہردفاع کیلئے ہے،مگراس کے اندرایک خوف بھی پوشیدہ ہے،وہ خوف جوہرملک کومجبورکرتاہے کہ وہ دوسرے سے ایک قدم آگے رہے۔اسی لئے یہ دوڑصرف طاقت کے اظہارکی نہیں بلکہ بقا کی جنگ بھی ہے،جہاں ہرملک اپنے آپ کومحفوظ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔مگرسوال یہ ہے کہ کیایہ دوڑکبھی ختم ہوگی یایہ انسانیت کوایک نہ ختم ہونے والے خوف کے دائرے میں قید رکھے گی؟
ایران کی طرزپرزیرِزمین فوجی تنصیبات بنانے کامنصوبہ اس بات کی علامت ہے کہ جدید جنگ میں تحفظ کاتصوربھی بدل چکاہے۔اب ہتھیاروں کوزمین کے نیچے محفوظ رکھنا،اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اب دفاع کاتصورسطحِ زمین سے نیچے منتقل ہورہاہے۔ سرنگوں کے ذریعے منتقل کرنا،اوراچانک حملے کیلئے تیاررکھناایک اہم حکمت عملی بن چکی ہے۔یہ تدبیر ہمیں قدیم قلعہ بندیوں کی یاد دلاتی ہے،مگرجدید ٹیکنالوجی کے ساتھ۔ گویاتاریخ اپنے آپ کونئے اندازمیں دہرارہی ہے۔
شمال مشرقی علاقوں میں فوجی تنصیبات کی اپ گریڈیشن اورپہاڑوں میں سرنگوں کی تعمیراورفوجی تنصیبات کی اپ گریڈیشن اس بات کی علامت ہے کہ جغرافیہ اب بھی جنگ کاایک اہم عنصراوراہم کرداراداکرتاہے،مگراس کی تعبیربدل چکی ہے۔اب پہاڑمحض رکاوٹ نہیں بلکہ تحفظ کاذریعہ ہیں،اورسرنگیں صرف راستے نہیں بلکہ حکمت عملی کاحصہ ہیں مگرفرق یہ ہے کہ اب جغرافیہ کوٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑکرایک نئی حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے۔آج کامیدانِ جنگ وسیع ہے،سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیلاہوا۔ڈرونز، میزائل، اور طیارے کسی بھی ملک کی حدودمیں گہرائی تک جاسکتے ہیں۔ایسے میں دفاع صرف سرحدوں پرنہیں بلکہ ہراس مقام پر درکارہے جہاں خطرہ جنم لے سکتاہے۔
موجودہ حالات ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتے ہیں کہ جنگ کاچہرہ مکمل طورپربدل چکاہے۔جنگ اب محض بندوق اوربارودکا کھیل نہیں رہی بلکہ ایک ہمہ گیرنظام بن چکی ہے جس میں ٹیکنالوجی،معیشت، سفارت کاری، اورنفسیات سب شامل ہیں۔یہ داستان اس وقت تک ادھوری رہے گی جب تک ہم پاکستان کی حکمت عملی،اس کی عسکری اصلاحات ،اورمستقبل کے امکانات کا جائزہ نہ لیں۔
قوموں کی تاریخ میں بعض فیصلے نہ صرف ایسے ہوتے ہیں جومحض اعدادوشمارنہیں بلکہ ایک اجتماعی شعورکی ترجمانی ہوتے ہیں بلکہ  بعض فیصلے وقتی نہیں ،وہ ایک طویل فکری ارتقا اور اجتماعی شعورکے عکاس ہوتے ہیں۔پاکستان کادفاعی بجٹ میں بیس فیصد نمایاں اضافہ بھی اسی قبیل کاایک فیصلہ ہے،یہ محض مالی اعدادوشمارکی ترمیم نہیں بلکہ ایک ایسی ریاستی بصیرت کااظہارہے جو خطرات کووقت سے پہلے بھانپ کران کاتدارک کرناجانتی ہے۔یہ اضافہ صرف خزانے سے نکالی گئی رقم نہیں بلکہ ایک اضطراری کیفیت کااظہارہے،ایک ایسے عہد کااعلان ہے جہاں بقاء کاسوال محض نظری نہیں بلکہ عملی بن چکاہے۔
چارروزہ جنگ نے پاکستان کویہ احساس دلایاکہ امن کی خواہش اپنی جگہ،مگراس کے تحفظ کیلئے قوت کاہوناناگزیرہے۔گویااس جنگ نے ایک آئینہ دکھایا،جس میں کمزوریاں بھی عیاں ہوئیں اورامکانات بھی روشن ہوئے۔اس آئینے میں جھانک کرپاکستان نے یہ ادراک کیا کہ محض نیک تمنائیں اورسفارتی امیدیں کافی نہیں ہوتیں؛امن کی بقاکیلئے طاقت کی موجودگی ناگزیرہے۔چنانچہ جب دفاعی بجٹ میں بیس فیصد اضافہ کیاگیااوراسے 2550 ارب روپے تک پہنچایاگیاتویہ فیصلہ محض عسکری اداروں کیلئے وسائل کی فراہمی نہ تھا بلکہ ایک اجتماعی عزم کااظہاراورتواناپیغام تھاکہ ہم اپنے تحفظ کی قیمت اداکرنے کیلئے تیارہیں۔یہ پیغام کہ ریاست اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے ہرممکن تدبیراختیار کرے گی، چاہے اس کیلئے اقتصادی ترجیحات کوہی کیوں نہ ازسرِنو ترتیب دیناپڑے۔
یہ اضافہ دراصل ایک تہذیبی ردعمل بھی ہے،کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں جواپنی حفاظت سے غافل ہوجاتی ہیں،وقت کے تندوتیز دھاروں میں بہہ جاتی ہیں۔پاکستان نے اس حقیقت کوپیشِ نظررکھتے ہوئے اپنی ترجیحات کوازسرِنوترتیب دیا،اوردفاع کومحض ایک شعبہ نہیں بلکہ قومی بقا کاستون قراردیا۔دفاعی بجٹ میں اضافہ ایک طرف بیرونی خطرات کا ردعمل ہے تودوسری طرف داخلی چیلنجز بالخصوص دہشتگردی کابھی جواب۔گویایہ بجٹ ایک دودھاری تلوارہے جوبیک وقت بیرونی دشمن اورداخلی انتشاردونوں کامقابلہ کرنے کیلئے تیارکی گئی ہے۔
جب ہم پاکستان کے دفاعی اخراجات کوعالمی تناظرمیں دیکھتے ہیں توایک پیچیدہ مگرواضح تصویرسامنے آتی ہے۔یہ تصویرایک ایسے ملک کی ہے جوجغرافیائی طورپرحساس خطے میں واقع ہے،جہاں ہرسمت سے چیلنجزسراٹھائے کھڑے ہیں۔بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس اس حقیقت کومزید واضح کرتی ہیں کہ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں دفاعی اخراجات محض اختیارنہیں بلکہ مجبوری بن چکے ہیں۔جب عالمی سطح پرپاکستان کے دفاعی اخراجات میں اضافہ نوٹ کیاجاتاہے تواس کے پیچھے صرف عسکری عزائم نہیں بلکہ جغرافیائی حقیقتیں بھی کارفرماہوتی ہیں۔گویا دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ صرف داخلی ضروریات کانتیجہ ہے بلکہ بیرونی دباؤاورعلاقائی مسابقت کابھی مظہرہے۔چین کے ساتھ دفاعی معاہدے،جدید طیاروں اورمیزائلوں کی خریداری،پہلے سے طے شدہ سودوں کی تکمیل،اورطویل المدتی معاہدے  یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان ایک طویل المدتی دفاعی حکمت عملی،ایک منظم اورتدریجی حکمت عملی پرگامزن ہے۔یہ محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک تدریجی عمل ہے جس میں ہرقدم سوچ سمجھ کراٹھایاجارہاہے۔
یہاں یہ امربھی قابلِ غورہے کہ دفاعی اخراجات میں اضافہ ہمیشہ طاقت اورجارحیت کی علامت نہیں ہوتا،بلکہ بعض اوقات یہ دفاعی ضرورت اورعدمِ تحفظ  کے احساس کاآئینہ بھی ہوتاہے۔مگرقومیں اسی احساس کوقوت میں بدلنے کاہنررکھتی ہیںاوریہی ہنرپاکستان کی عسکری حکمت عملی میں جھلکتاہے کہ پاکستان کی دفاعی پالیسی اسی اصول پرمبنی ہے کہ طاقت کا توازن ہی امن کی ضمانت ہے۔
پاکستان کی عسکری تاریخ میں آرمی راکٹ فورس کمانڈ کاقیام ایک سنگِ میل اورانقلابی قدم کی حیثیت رکھتاہے۔یہ محض ایک نئی یونٹ نہیں بلکہ ایک نئے نظریے،جدید جنگی فلسفے کی عملی
تعبیرہے ایک ایسافلسفہ جس میں رفتار،دورماررسائی،درستگی اورفوری ردعمل کومرکزی حیثیت حاصل ہے۔ماضی میں طویل فاصلے تک مارکرنے والے میزائل اسٹریٹجک سطح پرمحدود تھے،مگرجدید جنگ نے یہ تقاضاکیاکہ ان صلاحیتوں کو روایتی جنگی ڈھانچے میں بھی شامل کیاجائے۔راکٹ فورس کاقیام دراصل اسی ضرورت کاجواب ہے۔یہ قوت دشمن دراصل دشمن کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اب پاکستان دورسے نشانہ بنانے،فوری ردعمل دینے،اورجنگ کواپنے حق میں موڑنے کی کہیں بہترصلاحیت رکھتا ہے۔فاصلہ اب محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا؛ ہر مقام،ہروقت،اورہرزاویہ خطرے کی زدمیں آسکتاہے۔(جاری ہے)