’’چاردن،ایک صدی کاسبق‘‘

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کے سینے میں بعض واقعات ایسے ثبت ہوجاتے ہیں جومحض وقتی معرکے نہیں رہتے بلکہ ایک عہدکی علامت بن جاتے ہیں۔مئی کی چار روزہ پاک وہندجنگ بھی اسی نوع کا ایک باب ہے ،مختصر،فیصلہ کن،محدودمگراثرانگیز۔یہ وہ لمحہ تھاجب دنیانے حیرت سے دیکھاکہ ایک ایساملک،جورقبے،وسائل اورمعیشت کے اعتبارسے اپنے حریف سے کئی گنا چھوٹا ہے،کس طرح عزم،حکمت اور قربانی کے بل بوتے پرایک بڑی قوت کے سامنے ڈٹ کرکھڑاہوگیا۔
پاکستان نے اس معرکے میں صرف عسکری قوت ہی کامظاہرہ نہیں کیابلکہ اس نے یہ بھی ثابت کیاکہ جنگ کافیصلہ ہمیشہ تعداداور وسائل سے نہیں ہوتا،بلکہ جذبہ ایمانی،قومی یکجہتی، اور بروقت حکمتِ عملی بھی تاریخ کادھاراموڑسکتی ہے۔یہ وہی حقیقت ہے جسے اہلِ نظریوں بیان کرتے آئے ہیں کہ کمزوری جب یقین سے جڑجائے توقوت بن جاتی ہے،اورطاقت جب غرورمیں ڈھل جائے توزوال کاپیش خیمہ بن جاتی ہے۔
زیرِنظرآرٹیکل انہی حقائق کاایک سنجیدہ اورتحقیق پرمبنی جائزہ ہے،جس میں پاکستان اورانڈیادونوں کی عسکری تیاریوں، دفاعی حکمت عملیوں،اورجدید جنگی رجحانات کودیانت داری اورغیرجانب داری کے ساتھ پیش کیاگیاہے۔اس کامقصدکسی فریق کی محض مدح سرائی نہیں بلکہ حقیقت کواس کے تمام ترپہلوؤں کے ساتھ آشکارکرناہے،تاکہ عوام اوراربابِ اختیار دونوں اس بدلتے ہوئے منظرنامے کو بہترطورپرسمجھ سکیں۔موجودہ دورمیں جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹیکنالوجی،معیشت،اورفکرکے میدانوں تک پھیل چکی ہے۔ایسے میں ضروری ہے کہ قومیں نہ صرف اپنے ماضی سے سبق حاصل کریں بلکہ مستقبل کے چیلنجز کیلئے بھی خودکوتیار رکھیں۔
تاریخ کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں توبعض ابواب ایسے ملتے ہیں جومختصر ہونے کے باوجوداپنے اثرات میں ایک عہدکی نمائندگی کرتے ہیں۔جنوبی ایشیاکی فضامیں ایک عجیب سی گونج ہے،یہ گونج صرف توپ وتفنگ کی نہیں بلکہ نظریات،حکمتِ عملیوں اور ٹیکنالوجی کی نئی بساط کی ہے۔گزشتہ برس مئی کی چارروزہ پاک بھارت جنگ بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہے۔یہ جنگ بظاہر مختصرتھی،لیکن یہ کوئی محض چاردنوں کاقصہ نہ تھا،بلکہ ایک فکری انقلاب،ایک عسکری تجربہ،اورایک سیاسی بیانیہ تھاجس نے پورے خطے کی حرکیات کونہ صرف نئی جہت عطاکی بلکہ اپنے اثرات میں طویل،مضمرات میں گہرے،اوراشارات میں نہایت معنی خیزبنادیا۔یہ محض سرحدوں کاتصادم نہ تھا،بلکہ دوعسکری فکرناموں کاٹکراؤتھاایک ایسا تصادم جس نے آنے والے زمانوں کی جنگی جہتوں کونئی تعریف عطاکی۔اگرماضی کی جنگیں میدانوں میں لڑی جاتی تھیں تویہ جنگ ذہنوں،مشینوں اورنظاموں کے بیچ لڑی گئی۔ یہاں سپاہی کی للکارکی بجائے ڈرون کی خاموشی تھی،توپ کی گھن گرج کی بجائے میزائل کی برق رفتاری تھی،اورتلوارکی جھنکارکی بجائے ڈیجیٹل سگنلزکی سرگوشی تھی۔گویاجنگ نے اپنی ہیئت بدل لی،مگراس کی روح غلبہ،دفاع اوربقاوہی رہی۔
آج جب اس تنازع کوایک برس بیت چکاہے،دونوں ممالک نہ صرف اپنی کامیابیوں کے نغمے الاپ رہے ہیں بلکہ اس معرکے کواپنے قومی بیانیے کاحصہ بناکرنئی نسل کے اذہان میں ثبت کرنے کی سعی بھی کررہے ہیں۔تقریبات،بیانات،اورعسکری مشقیںیہ سب گویا ایک خاموش اعلان ہیں کہ جنگ ختم نہیں ہوئی،بلکہ اس نے صرف اپنالباس بدلاہے۔
یہی وہ پس منظرہے جس میں اس تنازع کوسمجھناناگزیرہے،کیونکہ یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ مستقبل کی جنگوں کاپیش لفظ ہے۔
یہ امرکسی سے پوشیدہ نہیں کہ اس چارروزہ جنگ کے بعددونوں ممالک کے سفارتی تعلقات گویابرف کی دبیزتہہ تلے دب گئے ہیں۔ جنگ کے بعدجوسب سے نمایاں تبدیلی سامنے آئی،وہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کاانجمادتھا۔گویاتعلقات کی وہ نہر،جو کبھی دھیرے دھیرے بہتی تھی،اچانک برف بن کرٹھہرگئی۔سفارت خانے خاموش،ویزا دفاترویران،اورتجارتی قافلے منتشرہوگئے،اور باہمی اعتمادقصہ پارینہ بن چکاہے۔سب سے اہم بات یہ کہ آبی تقسیم کاتاریخی معاہدہ،جسے عشروں تک دونوں ممالک نے ایک مقدس امانت کی طرح سنبھال کررکھا،جودہائیوں تک دشمنی کے باوجودقائم رہا،اب یکطرفہ معطلی کاشکارہے۔ 
یہ صورتحال اس حقیقت کی آئینہ دارہے کہ جدیدجنگ صرف میدانِ کارزارتک محدودنہیں رہی بلکہ جدیددنیامیں سفارت کاری،معیشت، اوروسائل کی تقسیم بھی نہ صرف اس کی زد میں آچکی ہے،بلکہ جنگ کاہتھیاراورایک ہمہ جہت مظہربن چکی ہے جس میں بندوق کی گولی سے زیادہ خطرناک قلم کی جنبش اورمعاہدوں کی معطلی ہوسکتی ہے۔پانی،جوزندگی کی علامت تھا،اب طاقت کی علامت بنتاجارہا ہے۔ 
پانی بھی اب سیاست کے سانچے میں ڈھل گیا
دریا بھی اب حدود کے پابند ہو گئے
انڈیاکی جانب سے آپریشن سندورکے جاری رہنے کااعلان اورپاکستان کی طرف سے تیاررہنے اورسخت جواب دینے کاعندیہ،یہ دونوں بیانات محض الفاظ نہیں بلکہ آنے والے طوفان کی پیشین گوئی ہیں۔دفاعی ماہرین کے نزدیک یہ بیانات دراصل ایک نفسیاتی جنگ کاحصہ ہیں،یہ سب دراصل عوامی ذہن سازی کے حربے ہیں جس کامقصد مخالف کومسلسل دباؤمیں رکھناہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں زبان ہتھیاربن جاتی ہے،اوربیان ایک مورچہ۔ قوموں کی نفسیات کومضبوط یاکمزورکرنے میں الفاظ کاکردارکسی میزائل سے کم نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتی ہے کہ جنگ اب صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ بیانئے،اطلاعات،اورنفسیاتی حربوں سے بھی جیتی یاہاری جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہربیان میں ایک پیغام چھپاہوتا ہے،اپنے لیے حوصلہ،اورمخالف کیلئے انتباہ۔
گزشتہ تنازع میں جوسب سے اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی،وہ جدیدٹیکنالوجی کابے مثال استعمال تھا۔پہلی باردونوں ممالک نے کھل کر طویل فاصلے تک مارکرنے والے میزائلوں، کروزسسٹمز،اورڈرونزکے استعمال کادعویٰ کیا۔یہ وہ لمحہ تھاجب جنگ نے اپنی روایتی حدودتوڑدیں اورایک نئی دنیامیں قدم رکھایہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ جنگ اب فاصلے کی قیدسے آزادہوچکی ہے۔جہاں سپاہی کی جگہ مشین نے لے لی،اورمحاذکی جگہ سکرین نے۔ڈرونزکی خاموش پروازیں،میزائلوں کی برق رفتاری،اورکروزسسٹمزکی مہلک درستگی یہ سب مل کرایک ایسی جنگی تصویربناتے ہیں جس میں انسانی جذبات کی جگہ الگورتھمزنے لے لی ہے۔گویااب جنگ فاصلے کی نہیں بلکہ صلاحیت کی ہوگئی ہے۔ڈرونزکی خاموش پروازیں گویاآسمان پرلکھے ہوئے وہ اشعارہیں جنہیں صرف تباہی کی زبان سمجھتی ہے۔میزائلوں کی رفتارایسی کہ پلک جھپکنے سے پہلے فیصلہ ہوجائے۔اورکروزسسٹمزکی درستگی ایسی کہ نشانہ خطاہونے کاسوال ہی پیدا نہ ہو۔یہ سب مل کرایک ایسی دنیاکی تصویرپیش کرتے ہیں جہاں انسان پس منظرمیں اورمشینیں پیش منظرمیں آچکی ہیں۔
انڈیا نے اس تنازع کے بعدجس حکمت عملی کواختیارکیا،اسے ملٹی ڈومین واردراصل جنگ کوایک نئے فلسفے میں ڈھالنے کے مترادف ہے۔اب جنگ صرف زمین پرنہیں لڑی جاتی بلکہ چاربنیادی میدانوں،فضا،سمندر،اورسائبردنیامیں بھی بیک وقت جاری رہتی ہے۔یہ حکمت عملی ہمیں اس حقیقت کی یاددہانی کراتی ہے کہ جدیددنیامیں جنگ ایک شطرنج کی بساط ہے جہاں ہرچال کئی سمتوں میں اثر اندازاورجدیدجنگ ایک ہمہ جہت مظہرہے،جہاں ہرمیدان دوسرے سے جڑاہواہے۔اگرایک محاذکمزورہوتوپورانظام خطرے میں پڑسکتا ہے۔اس لیے اب جنگ ایک مربوط نظام کاتقاضاکرتی ہے ،ایک ایسانظام جہاں ہرعنصراپنی جگہ پرمکمل ہو۔رفتار،انٹیگریشن،اور ٹیکنالوجی ،یہ تین عناصراب جنگ کے نئے ستون ہیں۔گویااب طاقت کامعیارصرف اسلحہ نہیں بلکہ اس کابروقت اورمربوط استعمال ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ88گھنٹوں کی جنگ دراصل ایک ریفرنس پوائنٹ،ایک حوالہ بن چکی ہے،ایک ایسانمونہ جس کی روشنی میں مستقبل کی جنگوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔اس جنگ نے دنیاکوایک بارپھریاددلایاکہ جنوبی ایشیااب بھی ایک نازک توازن پرقائم ہے،جہاں ایک معمولی چنگاری بھی بڑے شعلے کوجنم دے سکتی ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق یہ تنازع دراصل ایک پروٹوٹائپ تھا،جس میں مستقبل کی جنگوں کے خدوخال نمایاں ہوگئے۔یہ صورتحال ہمیں اس حقیقت کی یاددلاتی ہے کہ تاریخ خودکودہراتی نہیں، بلکہ نئے اندازمیں سامنے آتی ہے۔ہرجنگ اپنے اندراگلی جنگ کابیج رکھتی ہے، اوریہی بیج مستقبل کی حکمت عملیوں کوجنم دیتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں جھنجھوڑتی ہے اورکہتی ہے کہ طاقت کے توازن کونظراندازکرناخودکوتباہی کے دہانے پرلے جاناہے۔(جاری ہے)