بیرونِ ملک جانے سے روکنا میرے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے: اعظم سواتی

بیرونِ ملک جانے سے روکنا میرے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے: اعظم سواتی

پشاور: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ باہر جانا میرا قانونی حق ہے، مگر بار بار میرا نام فہرست میں ڈال کر مجھے روکا جا رہا ہے۔

 5 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی قیادت میں صرف مجھے کیوں گرفتار کیا گیا؟ میں 5 ماہ جیل میں رہا، اس سوال کا جواب عوام خود دے سکتے ہیں۔اعظم سواتی نے کہا کہ "فارم 47 والوں کو عوام نہیں مانتے، عوام صرف بانی پی ٹی آئی کو مانتے ہیں"۔ ان کے مطابق اس وقت صرف فوجی قیادت موجود ہے جبکہ حقیقی عوامی قیادت صرف بانی پی ٹی آئی ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی ناگزیر ہے تاکہ وہ افواج پاکستان اور عوام دونوں کے ساتھ کھڑے ہو سکیں، یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔عالمی اور علاقائی تناظر پر بات کرتے ہوئے اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ نریندر مودی آر ایس ایس اور ہٹلر کی پالیسیوں کا ترجمان ہے، اور وہ ہندوتوا نظریے کو فروغ دے رہا ہے۔

ان کے بقول، مودی کا مؤثر مقابلہ اور معیشت کا استحکام صرف بانی پی ٹی آئی کی قیادت میں ہی ممکن ہے۔سیاسی اتحاد سے متعلق سوال پر اعظم سواتی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک بڑی عوامی قوت ہیں، اور ان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر گرینڈ الائنس بن رہا ہے تو مولانا کا اس میں شامل ہونا انتہائی ضروری ہے۔آخر میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں شہباز شریف کی کوئی حیثیت یا کردار نہیں، ملک کی جیت صرف اور صرف حقیقی عوامی قیادت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔