21 مئی 2025 کو بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک اسکول بس پر خودکش کار بم حملے کے نتیجے میں کم از کم تین بچوں سمیت پانچ افراد شہید اور 38 سے زائد زخمی ہو گئے۔
یہ حملہ خضدار کے زیرو پوائنٹ کے قریب اس وقت ہوا جب بس فوجی زیر انتظام اسکول کی جانب جا رہی تھی۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اس حملے کو بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی قرار دیا ہے، جس کے مطابق یہ حملہ بھارتی ایجنٹوں کے ذریعے کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارت میدان جنگ میں ناکامی کے بعد معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، اور یہ حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بربریت قرار دیا اور کہا کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا دشمن کی بزدلی کی علامت ہے۔
اس حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے فوری طور پر قبول نہیں کی، تاہم حکام کا شبہ ہے کہ اس کے پیچھے بلوچ علیحدگی پسند گروہ ہو سکتے ہیں، جو ماضی میں بھی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔یہ واقعہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کا حصہ ہے، جہاں اس سے قبل بھی متعدد حملے ہو چکے ہیں۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے اس حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔