آپ نے پاکستان میں حالیہ سیلاب کے اثرات، حکومتی اقتصادی اقدامات، اصلاحاتی پروگرامز اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔
یہاں میں آپ کے بیان کا مفصل خلاصہ اور اہم نکات پیش کرتا ہوں:
سیلاب کے اثرات اور نقصانات:
سیلاب کی تباہ کاری: حالیہ ہفتوں میں پاکستان کو بڑے پیمانے پر سیلاب کا سامنا رہا، جس سے بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا۔
جان و مال کا نقصان: ابتدائی تخمینہ کے مطابق، ایک ہزار سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
مالی نقصانات: تقریباً 822 ارب روپے کا مجموعی نقصان ہوا ہے، جس میں:زرعی شعبہ: 430 ارب روپے
انفراسٹرکچر: 307 ارب روپے
گھروں اور عمارتوں کا نقصان:پنجاب میں 213,000 سے زائد گھر تباہ
بلوچستان میں 6,000 سے زائد
سندھ میں 3,332
خیبر پختونخواہ میں 3,200 سے زائد
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 3,600 سے زیادہ گھروں کو نقصان پہنچا
تعلیمی ادارے: 2,267 سے زیادہ تعلیمی ادارے سیلاب سے متاثر ہوئے۔
زراعت: 0.6 سے 1.2 ملین ٹن چاول کی فصل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
اقتصادی اور سماجی حالت:
مہنگائی میں کمی: مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مہنگائی 9.2 فیصد سے کم ہوکر 4.2 فیصد پر آ گئی۔
ٹیکس وصولی: پہلی سہ ماہی میں ٹیکس کولیکشن میں 12.5 فیصد اضافہ، 2,884 ارب روپے جمع ہوئے، جو پچھلے سال کی اسی مدت میں 2,563 ارب روپے تھے۔
نجی شعبہ اور بینکنگ: نجی شعبے اور بینکوں کے کریڈٹ میں 16 فیصد اضافہ، کاروباری سرگرمیوں میں بہتری۔
ترسیلات زر: بیرون ملک پاکستانیوں سے ترسیلات زر میں 8.5 فیصد اضافہ، جو اعتماد کی بحالی کا نشان ہے۔
بین الاقوامی کامیابیاں: پاکستان نے سفارتی سطح پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں:غزہ امن معاہدہ اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی
سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ
"معرکہ حق" میں کامیابی
مستقبل کے ترقیاتی اور اصلاحاتی پروگرامز:
اقتصادی ہدف: 2035 تک 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا عزم، جس کے لیے گورننس اور ریگولیشن اسٹرکچر کو جدید بنانا ضروری ہے۔
اصلاحات اور ریفارمز:سال 2026 کو "ایئر آف ریفارمز اینڈ ماڈرنائزیشن آف اکانومی" کے طور پر منانے کا منصوبہ
گورننس کے ڈھانچے کی ازسر نو ترتیب، سرخ فیتے (ریڈ ٹیپ) کا خاتمہ، اور کاروبار دوست ماحول کی تشکیل
ریگولیٹری فریم ورک اور بزنس فریم ورک کی تشکیل
معاشرتی اصلاحات:معاشرتی اتحاد کو فروغ دینا
علماء کو معاشرتی اصلاحات میں شامل کرنا
سول سروس کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا
پالیسی تسلسل اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی: بہتر پالیسیاں اور سہولیات فراہم کرکے سرمایہ کاری کو فروغ دینا۔
نئے صوبے: نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی طریقہ موجود ہے، لیکن صرف قومی اتفاق رائے سے ہی عمل ممکن ہے۔
لوکل حکومت کا کردار: چین کی ترقی میں مقامی حکومتوں کا اہم کردار ہے، جس سے پاکستان کو بھی فائدہ اٹھانا ہوگا۔