پیدائش کی رجسٹریشن عمر کی بنیاد پر مرحلہ وار طریقے سے تقسیم ،، پیدائش کے بعد 7سال تک رجسٹریشن مفت ہوگی
لاہور(آئی این پی )محکمہ لوکل گورنمنٹ نے پنجاب بھر میں پیدائش اور اموات کی رجسٹریشن کے لیے نئے قواعد و ضوابط(برتھ اینڈ ڈیتھ رولز) نافذ کر دیئے۔ اس قانون سازی کا مقصد رجسٹریشن کے موجودہ نظام کو مزید موثر، آسان اور عام شہریوں کے لیے قابل رسائی بنانا ہے۔نئے رولز کے مطابق پیدائش کی رجسٹریشن کو مختلف عمر کی بنیاد پر مرحلہ وار طریقے سے تقسیم کیا گیا ہے تاکہ ہر عمر کے بچوں کی رجسٹریشن واضح نظام کے تحت کی جا سکے۔ اب پیدائش کے بعد 7 سال تک رجسٹریشن بالکل مفت ہوگی۔ایک سال کی عمر تک بچے کی پیدائش کا اندراج متعلقہ سیکرٹری یونین کونسل کے دائرہ اختیار میں ہوگا، جو اسے براہ راست رجسٹر کرے گا۔ ایک سال سے زائد اور سات سال تک کی عمر والے بچوں کا اندراج اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کے اختیار میں ہوگا۔ اگر بچے کی عمر سات سال سے زائد ہو گئی ہو، تو اس کی پیدائش کا اندراج ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سب سے بڑی سہولت یہ دی گئی ہے کہ تاخیر سے رجسٹریشن کی صورت میں عدالتی ڈگری کی شرط ختم کر دی گئی ہے، جو پہلے ایک بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی تھی۔نئے قواعد کے مطابق اگر کسی بچے کی پیدائش سات سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد رجسٹر کی جا رہی ہو تو ایسے کیسز میں اخباری اشتہار دینا ضروری ہوگا تاکہ ریکارڈ میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سات سال کے بعد رجسٹریشن کی صورت میں ایک مخصوص رجسٹریشن فیس بھی لاگو ہو گی، جس کی مقدار متعلقہ لوکل گورنمنٹ آفس طے کرے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام سے نادرا، سکولوں میں داخلہ، سفری دستاویزات اور دیگر سرکاری ریکارڈ کے لیے درست اور فوری معلومات دستیاب ہوں گی، جو عام شہریوں کے لیے زندگی کو آسان بنائیں گی۔