پریکٹیس اینڈ پروسیجر رولز 48گھنٹوں میں ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنیکاحکم وہ رولز بنائے جو ہمیں بھی نہیں ملے:جسٹس محسن اختر کیانی

 فل کورٹ نے رولز منظور کئے لیکن باہر نہیں نکالے گئے، پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز ایک سیکرٹ ڈاکومنٹ ہے:جسٹس محسن اختر کیانی کا وکیل سے مکالمہ
 کیس کی سماعت 29 جنوری کو مقرر کردیں:وکیل کی استدعا‘اس تاریخ کو پتہ نہیں میں یہاں  ہوں گا یا نہیں:جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس
اسلام آباد(آئی این پی )اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ہائیکورٹ کے پریکٹیس اینڈ پروسیجر رولز  48 گھنٹوں میں ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم  جاری کردیا اور  اسلام آباد ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ بارز کو بھی رولز کی کاپیاں فراہم کرنے کی ہدایت  کی ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کے دوران   پریکٹیس اینڈ پروسیجر رولز سے متعلق وکیل سے استفسار کیا، وکیل نے پریکٹیس ایند پروسیجر رولزکی تفصیلات سے متعلق اظہار لاعلمی کیا۔وکیل درخواستگزار نے کہا  پریکٹس ایند پروسیجر رولز حاصل کرنے کے لئے درخواست دے رہے ہیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ ہم نے ہائیکورٹ کے وہ رولز بنائے جو ہمیں بھی نہیں ملے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ میں جج ہوں مجھے نہیں ملے، آپ کو کیسے ملیں گے، فل کورٹ نے رولز منظور کیے لیکن باہر نہیں نکالے گئے، پریکٹیس اینڈ پروسیجر رولز ایک سیکریٹ ڈاکومنٹ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ رجسٹرار  کو لکھ دیں پریکٹیس اینڈ پروسیجر رولز فراہم کرنے کے لیے، وکیل درخواستگزار نے کہا کہ وزارت قانون سے معلوم کیا ہے اب میں درخواست بھی لکھوں گا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ آپ درخواست لکھیں تین مہینے لگ جائیں گے، یہاں کوئی ڈاکومنٹ ہو تو رجسڑار وہ تین تین ماہ تک فراہم نہیں کرتا، 48 گھنٹوں میں ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے کی ہدایت کردی ہے،  اگر حکم پر عمل نہیں ہوا تو آپ کرمنل پروسیجر فائل کردینا میں رجسٹرار کو بلا لوں گا۔وکیل نے استدعا  کی  کیس کی سماعت 29 جنوری کو مقرر کردیں، جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس  نے ریمارکس دئیے  29 کو پتہ نہیں میں یہاں  ہوں گا یا نہیں ، عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔