پاکستان میں اسپیس ایکس کی اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس کے آپریشنز کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
وزیرِ اعظم کی ہدایت پر پاکستان اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ (Space Activity Regulatory Board) نے اسٹارلنک کو این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس سے اسٹارلنک کو پاکستان میں آپریشنز شروع کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔اسٹارلنک ایک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ہے جو اسپیس ایکس کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے اور یہ دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جہاں کیبل اور دیگر روایتی انٹرنیٹ سروسز دستیاب نہیں ہیں۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو اسٹارلنک کے لائسنس کی جاری کرنے کی اجازت مل گئی ہے اور پی ٹی اے لائسنس جاری کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ 4 ہفتوں کا وقت لے سکتا ہے۔ لائسنس کے اجرا کے بعد اسٹارلنک پاکستان میں اپنے انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی شروع کر سکے گا۔ذرائع کے مطابق اسٹارلنک کو آپریٹ کرنے کے لیے کم سے کم ایک سال کا وقت درکار ہوگا،
کیونکہ اسے پاکستان میں اپنا سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک قائم کرنے کے لیے اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ سے کلیئرنس حاصل کرنی ہوگی۔ اس کے علاوہ، اسٹارلنک کی سروس پاکستان میں مختلف علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے اہم ثابت ہو گی، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں روایتی انٹرنیٹ سروسز دستیاب نہیں ہیں۔اس پیشرفت سے پاکستان میں انٹرنیٹ کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی، خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں جہاں روایتی انٹرنیٹ نیٹ ورک کی کمی ہے۔ اسٹارلنک کی سروس کے شروع ہونے سے پاکستان میں انٹرنیٹ کے معیار میں بہتری اور کاروباری مواقع کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور سوشل پلیٹ فارمز کے لیے بھی نئے امکانات کھلیں گے۔