ایلون مسک نے یوکرینی فوج کے لیے اسٹارلنک پابندیوں کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہرا دیا

ایلون مسک نے یوکرینی فوج کے لیے اسٹارلنک پابندیوں کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہرا دیا

ویب ڈیسک: ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے یوکرینی فوج کے زیرِ استعمال اسٹارلنک مواصلاتی نظام پر عائد پابندیوں سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے فیصلے اسپیس ایکس اپنی مرضی سے نہیں کرتی، بلکہ فوجی مواصلاتی نظام کے استعمال اور اس پر عائد حدود کا اختیار امریکی حکومت کے پاس ہے۔

ایلون مسک کے مطابق اسٹار شیلڈ (Starshield) نامی فوجی مواصلاتی نظام امریکی حکومت کی ملکیت اور کنٹرول میں ہے۔ اس لیے اس نظام کی رفتار یا استعمال محدود کرنے کے فیصلے امریکی فوج اور بالآخر امریکی صدر کے اختیار سے متعلق ہیں۔

اسٹارلنک پابندیوں سے یوکرینی فوج کو مشکلات کا سامنا
رپورٹس کے مطابق یوکرینی فوج نے شکایت کی ہے کہ اسٹارلنک ٹرمینلز پر اچانک پابندیوں کے باعث بعض ڈرون آپریشنز اور فضائی دفاعی مشنز متاثر ہوئے ہیں۔ اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض ٹرمینلز پر تقریباً 160 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر انٹرنیٹ کنکشن متاثر ہونے کے مسائل سامنے آئے۔اسٹارلنک سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرنے والا نظام ہے، جسے یوکرین میں فوجی مواصلات اور مختلف آپریشنز کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ایسے میں کنکشن کی دستیابی یا استعمال پر پابندیاں یوکرینی فوج کی بعض سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ اور یوکرین کے درمیان کشیدگی
اسٹارلنک کا معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔رپورٹس کے مطابق ٹرمپ یوکرین پر روسی توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ یوکرینی حکام کا مؤقف ہے کہ اسٹارلنک کی پابندیاں ملک کی دفاعی صلاحیت اور فوجی آپریشنز کو متاثر کر سکتی ہیں۔

کیا ٹرمپ نے خود پابندیوں کا حکم دیا؟
اس معاملے میں اہم سوال یہ ہے کہ آیا اسٹارلنک کی رفتار یا استعمال محدود کرنے کا فیصلہ براہِ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا یا یہ کسی دوسرے انتظامی یا فوجی فیصلے کا نتیجہ تھا۔تاحال امریکی حکام کی جانب سے اس بات کی واضح تصدیق سامنے نہیں آئی کہ ٹرمپ نے ذاتی طور پر اسٹارلنک کی رفتار محدود کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعض امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس پابندی میں براہِ راست ملوث نہیں تھی۔

اس طرح اسٹارلنک پابندیوں کے اصل فیصلے، اس میں امریکی حکومت کے کردار اور یوکرینی فوجی آپریشنز پر اس کے اثرات سے متعلق کئی سوالات ابھی واضح ہونا باقی ہیں۔ ایلون مسک کے بیان نے اس معاملے میں امریکی حکومت کے اختیار اور اسپیس ایکس کے کردار پر بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔