ویب ڈیسک: بھارتی کرکٹر یوزویندر چہل نے آئی پی ایل کے ابتدائی دنوں کی ایک خوفناک آپ بیتی سنا دی۔
یوزویندر چہل نے بتایا کہ آئی پی ایل کے ابتدائی دنوں میں، خاص طور پر جب وہ ممبئی انڈینز میں اینڈریو سائمنڈز اور جیمز فرینکلن کے ساتھ تھے، انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ چہل نے بتایا کہ کس طرح انہیں ٹیم کے ساتھیوں کی جانب سے ہراساں کیا گیا۔انہوں نے 2011 میں ایک پوڈ کاسٹ میں اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ سائمنڈز اور فرینکلن نے انہیں باندھ کر منہ پر ٹیپ لگا دی اور رات بھر کمرے میں چھوڑ دیا۔ یہ واقعہ چنئی کے ایک ہوٹل میں چیمپئنز لیگ جیتنے کے بعد پیش آیا تھا۔ چہل نے بتایا کہ وہ اس وقت نوجوان تھے اور ٹیم میں واپسی کی امید کر رہے تھے، جب یہ واقعہ پیش آیا۔چہل نے کہا، "سائمنڈز اور فرینکلن نے میری ٹانگیں باندھ کر کہا کہ تمہیں خود ہی کھولنا ہے، وہ مستی میں تھے اور میرے منہ پر ٹیپ لگا کر مجھے چھوڑ دیا۔
صبح جب ایک صفا کرنے والے ملازم آیا، تو اس نے مجھے آزاد کیا۔"جب چہل سے پوچھا گیا کہ کیا سائمنڈز اور فرینکلن نے اس پر معافی مانگی، تو چہل نے کہا کہ نہیں، انہوں نے کبھی معافی نہیں مانگی، بس یہ کہا کہ جب وہ زیادہ "جوس" پیتے ہیں، تو وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔اس کے علاوہ، چہل نے 2013 میں ایک اور واقعہ کا ذکر کیا جب وہ ہوٹل کے کمرے کی بالکونی سے ایک ساتھی کے لٹکانے کی وجہ سے بیہوش ہوگئے تھے۔