ویب ڈیسک : آج 21 جون کو سال 2025 کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات ہو گی، جو کہ فلکیاتی لحاظ سے گرمیوں کے عروج (Summer Solstice) کا دن بھی کہلاتا ہے۔
ماہر فلکیات کی وضاحت:
ماہر فلکیات پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید اقبال کے مطابق:
آج دن کا دورانیہ 13 گھنٹے 41 منٹ ہو گا۔
جبکہ رات صرف 10 گھنٹے 19 منٹ کی ہو گی۔
یکم جولائی کے بعد دن کا دورانیہ بتدریج کم ہونا شروع ہو جائے گا، اور
22 ستمبر کو دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہو جائے گا۔
یہ دن کیوں سب سے طویل ہوتا ہے؟
یہ فلکیاتی مظہر زمین کی گردش کی وجہ سے پیش آتا ہے:
جب زمین سورج کے گرد گردش کرتے ہوئے راس السرطان (Tropic of Cancer) پر پہنچتی ہے تو شمالی نصف کرے (Northern Hemisphere) میں سورج کی شعاعیں عمودی پڑتی ہیں۔
اس مقام پر شمالی نصف کرے میں دن طویل اور رات مختصر ہو جاتی ہے، اور یہی گرمیوں کی شدت کا وقت بھی ہوتا ہے۔
مزید وضاحت:
آج سے لے کر اگلے تین دن تک طلوع آفتاب کا وقت تقریباً ایک جیسا رہے گا، البتہ سورج غروب ہونے کا وقت ہر روز تھوڑا تھوڑا آگے بڑھتا جائے گا۔
اس کے برعکس، جب سورج راس الجدی (Tropic of Capricorn) کے قریب ہوتا ہے، تو شمالی نصف کرے میں سردی اور دن کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے۔
عوامی دلچسپی کا پہلو:
یہ دن طلبہ، فلکیات کے شوقین افراد، اور کسانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ سورج کی حرکت کے مطابق کئی زرعی اور موسمی معمولات ترتیب دیے جاتے ہیں۔