محمد تسنیم رضا
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان موجود کشیدگی، جو اس وقت براہِ راست حملوں اور جوابی کارروائیوں کی صورت اختیار کر چکی ہے، اس کی ابتدا حالیہ برسوں کے واقعات سے نہیں ہوئی۔ اس کے پس منظر میں سات دہائیوں پر محیط ایک ایسی تاریخ موجود ہے، جس میں بیرونی مداخلت، نظریاتی کشمکش، علاقائی سیاست اور قومی خودمختاری کی جدوجہد ایک دوسرے سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ بظاہر یہ تنازع آج کا معلوم ہوتا ہے، مگر اس کی بنیادیں گزشتہ صدی کی پچاس کی دہائی میں رکھی جا چکی تھیں۔وہ جو قابل اجمیری نے کہاتھا :
وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتایہ شعر ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ کشیدگی کی شاید سب سے بہتر ترجمانی کرتا ہے۔
پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں صورتِ حال آج سے یکسر مختلف تھی۔ شاہِ ایران محمد رضا پہلوی امریکہ کے قریبی اتحادی تھے۔ اسرائیل کے ساتھ بھی ایران کے تعلقات خوشگوار تھے اور مغربی دنیا ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنے ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھتی تھی۔ اس وقت شاید ہی کسی نے تصور کیا ہو کہ یہی ایران ایک دن "مرگ بر امریکہ" کا نعرہ اپنی ریاستی شناخت کا حصہ بنا لے گا اور اسرائیل کو اپنا سب سے بڑا علاقائی حریف قرار دے گا۔
ایرانی عوام کے ایک بڑے طبقے میں امریکہ کے خلاف بداعتمادی میں اضافہ ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہوا، اگرچہ اس کے محرکات اس سے پہلے پیدا ہو چکے تھے۔ 1951ء میں ڈاکٹر محمد مصدق ایران کے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے۔ اس وقت برطانوی کمپنی اینگلو ایرانین آئل کمپنی ایران کی تیل کی صنعت پر تقریباً مکمل کنٹرول رکھتی تھی۔ تیل سے حاصل ہونے والے منافع کا بڑا حصہ برطانیہ کو جاتا تھا، جبکہ ایران کو نسبتاً بہت کم حصہ ملتا تھا۔ مصدق کے نزدیک یہ نہ صرف معاشی ناانصافی تھی بلکہ قومی خودمختاری کے بھی منافی تھی۔ تیل کے جس معاہدے پر مصدق کو اعتراض تھا وہ معاہدہ اصل میں انیس سو ایک میں قاجار بادشاہ مظفرالدین نے ایک برطانوی سرمایہ کار ولیم ناکس ڈارسی (William Knox D'Arcy) کے ساتھ کیا تھا۔اس معاہدے کے مطابق کمپنی کو ساٹھ سال تک تیل نکلانے کا حق دیا گیا۔ انتظام اور پیداوار پر عملی کنٹرول کمپنی کے پاس ہونا تھا۔ایران کو جو رائلٹی ملنا تھا وہ انتہائی کم تھی۔ منافع میں سے سولہ فیصد ایران کا تھا باقی کمپنی کا ، کہا جاتا ہے کہ وہ بھی پورا نہیں ملتا تھا ۔
انیس سو تینتیس میں میں رضا شاہ پہلوی (محمد رضا شاہ کے والد) حکمران تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ کہ ڈارسی معاہدے کے تحت ایران کو بہت کم مالی فائدہ مل رہا ہے جبکہ برطانوی کمپنی بے پناہ منافع کما رہی ہے۔انیس سو اکتیس کی عالمی کساد بازاری کی وجہ سے ایران کو ملنے والی رائلٹی میں مزید کمی ہو چکی تھی۔جس پر رضا شاہ سخت ناراض تھے جس کی وجہ سے انہوں نے یکطرفہ طور پر ڈار سی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔برطانیہ نے اس اقدام کو قبول نہیں کیا اور معاملہ لیگ ا?ف نیشن تک پہنچ گیا ،طویل مذکرات کے بعد ایک نیا معاہدہ طے پا گیا۔
لیکن اس معاہدیکے باوجود ایرانی حکومت اور عوام کے ایک بڑے طبقے کے تحفظات دور نہ ہو سکے۔ ان کا مؤقف تھا کہ تیل کی دولت سے حاصل ہونے والے فوائد اور اس پر عملی اختیار اب بھی غیر متناسب حد تک برطانوی کمپنی کے پاس ہے
یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے کم منافع پر کمپنی سے معاہدہ کیوں کیا گیا ؟اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ اس وقت تیل کی معاشی اہمیت ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوئی تھی،جس کی وجہ سے ایسی شرائط پر معاہدہ طے ہوا ۔البتہ بعض ماہرین کا خیال تھا کہ تیل انسان کی معاشی ضرورت بن سکتا ہے کیونکہ موٹر گاڑیاں بننی شروع ہو گئی تھیں اور تیل سے چلنے والے انجن کو مستقبل کی ٹیکنالوجی سمجھا جا رہا تھا۔تجارتی سطح پر تیل ایران میں انیس سو آٹھ میں نکلا۔۔تیل نکلنے کے بعد انیس سو نو میں اینگلو پرشین آئل کمپنی قائم ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت مملکت کانام ایران نہیں بلکہ پرشیا تھا۔ایران نام انیس سو پینتیس میں اپنایا گیا۔ جس کے بعد کمپنی کا نام اینگلو ایرانین ا?ئل کمپنی رکھا گیا۔ ۔انیس سو چودہ میں پہلی جنگ عظیم سے پہلے برطانیہ گورنمنٹ نے کمپنی سے اکیاون فیصد تیل کے حصے خرید لئے ،کیونکہ اس وقت برطانوی بحریہ کو کوئلے سے تیل پر منتقل کیا جا رہا تھا اور حکومت اپنے بحری بیڑے کے لئے مستقل تیل کی فراہمی چاہتی تھی۔انیس سو پچاس میں جب امریکی کمپنی ا?رامکو اور سعودی عرب کا معاہدہ پچاس ،پچاس فیصد طے ہو ا۔ اس وقت مصدق کو محسوس ہوا کہ ان کے ملک کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے اور انہیں بہت کم منافع دے کے ان کے ملک کا استحصال کیا جارہا ہے۔
انہوں نے یہ موقف اپنایا کہ چونکہ تیل کے ذخائر ایران کی سرزمین پر واقع ہیں، اس لیے ان پر مکمل اختیار بھی ایرانی ریاست کا ہونا چاہیے، نہ کہ کسی غیر ملکی کمپنی کا۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے ایرانی تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لے لیا۔ ان کے اس فیصلے نے برطانیہ کو شدید معاشی دھچکا پہنچایا۔ ردِعمل کے طور پر برطانیہ نے ایرانی تیل کے خلاف بین الاقوامی بائیکاٹ کی مہم چلائی، ایران پر معاشی دباؤ بڑھایا اور معاملہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں بھی لے گیا۔ایک طرف تو برطانیہ کے ساتھ تیل پر کنٹرول کا جھگڑا چل رہا تھا
دوسری طرف ایران کے اندر بھی شاہ محمد رضا پہلوی اور وزیرِ اعظم مصدق کے درمیان اختیارات کی کشمکش شدت اختیار کر چکی تھی۔ مصدق ایک مضبوط پارلیمانی نظام اور منتخب حکومت کے اختیارات میں اضافے کے خواہاں تھے، جبکہ شاہ اپنی آئینی اور سیاسی حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ یہ اختلافات بالآخر ایک کھلے سیاسی تصادم میں تبدیل ہو گئے۔
اگست 1953ء میں شاہ نے شاہی فرمان کے ذریعے ڈاکٹر مصدق کو معزول کرنے کی کوشش کی، لیکن مصدق کو اس منصوبے کی اطلاع مل گئی۔ فرمان لے کر آنے والے کرنل نعمت اللہ نصیری سمیت چند فوجی افسران کو گرفتار کر لیا گیا۔ بغاوت کی کوشش ناکام ہونے پر شاہ پہلے بغداد اور پھر روم چلے گئے۔تاہم چند ہی دن بعد صورت حال یکسر بدل گئی۔ شاہ کے حامی فوجی افسروں ،بعض سیاستدانوں اور دیگر اندرونی عناصر کے تعاون اور برطانیہ کی ایم آئی سکس اورامریکہ کی سی آئی اے،نے انیس اگست انیس سو ترپن کو مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔امریکہ اور برطانیہ کی اس خفیہ کاروائی کو آپریشن آڑاکس کا نام دیا گیا ۔
ڈاکٹر مصدق مختصر عرصے تک منظرِ عام سے اوجھل رہے، مگر بعد ازاں خود کو حکام کے حوالے کر دیا۔ ان پر مقدمہ چلایا گیا، تین سال قید کی سزا سنائی گئی، اور رہائی کے بعد انہیں اپنی وفات تک آبائی گھر میں نظر بند رکھا گیا۔ دوسری جانب محمد رضا شاہ دوبارہ ایران واپس آ گئے اور ان کا
اقتدار پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مصدق نے تو برطانیہ کے مفادات کو نقصان پہنچایا تھا اس لئے اس نے مصدق کے خلاف شاہ کا ساتھ دیا امریکہ کو کیا مسئلہ تھا ؟
ابتدا میں امریکہ برطانیہ جتنا سخت موقف نہیں رکھتا تھا بلکہ صدر ہیری ٹرومن نے کئی مواقع پر برطانیہ اور مصدق کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کی۔ واشنگٹن یہ نہیں چاہتا تھا کہ بحران زیادہ بڑے لیکن امریکہ کی پالیسی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور کے اقتدار میں آنے کے بعد بدل گئی ،جس کی وجہ یہ تھی کہ ایران میں شدید سیاسی بحران پیدا ہو گیا تھا ،معیشت بائیکاٹ کی وجہ سے کمزور ہو رہی تھی ، اور ایک بڑٰ ی وجہ یہ بھی تھی کہ حزب تودہ جو کہ کمیو نسٹ پارٹی تھی وہ منظم اور مضبوط ہورہی تھی۔امریکہ کو خطرہ تھا کہ اگر حکومت مزید کمزور ہوئی تو حزب تودہ اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے اور ایران سوویت یونین کے اثرو رسوخ میں جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ امریکہ یہ بھی چاہتا تھا کہ مغربی دنیا کو مشرق وسطی کے تیل تک رسائی برقرار رہے۔بعد میں نئے ہونے والے تیل کنسورشیم میں امریکی کمپنیوں نے چالیس فیصد حصہ وصول کیا۔اس سے واضح ہے کہ امریکہ کو معاشی فائدہ بھی حاصل ہوا۔
امریکہ نے معاشی فائدے اور ایران کو سوویت یونین بلاک کا حصہ بننے کے خدشات سے بچانے کے لئے ،ایران میں اندرونی مداخلت کر کے محمد رضا شاہ کی حکومت تو مضبوط کر دی ،لیکن عوام کے ایک بڑے طبقے کے دل میں اپنے لئے نفرت کے بیج بو دیے۔اس طبقے نے
منتخب حکومت کے خاتمے میں امریکہ کے کردار کو ایران کی خودمختاری کے خلاف سمجھا، یہی احساس بعد کے برسوں میں اسلامی انقلاب کے امریکہ مخالف بیانیے کی ایک مضبوط بنیاد بن گیا۔