تاریخ کے ترازو پر عدل اور سیاست

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
قانون کی برتری کاوعدہ اسی وقت معتبرہوگاجب انصاف کی ترازو دونوں پلڑوں میں یکساں ٹھہرسکے۔گرفتاریاں اپنی جگہ،مگرسوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیااقلیت خودکومحفوظ سمجھ رہی ہے؟جمہوری معاشرے کاحسن یہی ہے کہ کمزورطبقات سب سے زیادہ محفوظ ہوںاگروہ لرزاں ہوں توریاست کاوقارمجروح ہوتاہے۔داس کے قتل میں ملوث متعددافرادکی گرفتاری کے باوجود سوال اپنی جگہ یہ ہے کہ کیااقلیتوں کے دلوں میں بیٹھاخوف کم ہوسکا؟کیایہ تشدد وقتی ہیجان ہے یاکسی گہرے سماجی اضطراب کامظہر؟
کچھ بیانیوں کے مطابق مذہبی انتہاپسندعناصرکی شمولیت کے شکوک ظاہرکیے گئے ہیں،جن کے نتیجے میں اخبارات و ثقافتی اداروں پرحملوں کی خبریں آئیں۔یہ صورتحال اس سوال کوپھرسے زندہ کرتی ہے کہ قلم اورثقافت پروارکرنے والے دراصل معاشرے کے کس زاویے کی نمائندگی کرتے ہیں۔اخبارات اورثقافتی اداروں پرحملے اس امرکی علامت ہیں کہ سماج کے اندرایک ایساطبقہ موجودہے جواختلاف کومکالمے سے نہیں،طاقت سے جواب دیناچاہتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں تہذیبی روایت،رواداری اوردل آویزی کاامتحان شروع ہوتاہے۔
کچھ بیانیوں کے مطابق مذہبی انتہاپسندعناصرکی شمولیت کے شکوک ظاہرکیے گئے ہیں،جن کے نتیجے میں اخبارات و ثقافتی اداروں پرحملوں کی خبریں آئیں۔یہ صورتحال اس سوال کوپھرسے زندہ کرتی ہے کہ قلم اورثقافت پروارکرنے والے دراصل معاشرے کے کس زاویے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
سول سوسائٹی کی آوازریاست کی سماجی روح ہوتی ہے۔اس روح نے واضح کہاکہ عبوری انتظامیہ امن بحال کرنے میں پسپا دکھائی دی۔سماج کی یہ آواز محض شکایت نہیں بلکہ اصلاحِ حال کی دعوت بھی ہے۔سول سوسائٹی کی آوازیں پرشکوہ احتجاج میں ڈھل گئیں کہ امن وامان کے قیام میں عبوری انتظامیہ ناکام رہی۔گویاریاست کے ہاتھ میں تھامی ہوئی شمع لرزاں دکھائی دی۔
بین الاقوامی ماہرین نے بجاکہاکہ میڈیاکاکردارآگ بھی بھڑکاسکتاہے اورپانی بھی ڈال سکتاہے۔اگرخبرتحریربن کرتعصب اوڑھ لے تومعاشرے کی آنکھوں میں دھواں بھردیتی ہے۔اس لیے ذمہ دارانہ رپورٹنگ اس وقت ناگزیرہوچکی ہے۔بین الاقوامی محققین نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ بعض بھارتی ذرائع ابلاغ بنگلہ دیش کی صورتحال کوایسے انداز میں پیش کررہے ہیں جس سے فرقہ وارانہ تاثرگہراہو۔ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اجاگرہوئی کہ بنگلہ دیش کااستحکام خطے کی مجموعی سلامتی سے جڑاہواہے۔
انتخابات بنتے بھی ہیں،بگاڑتے بھی ہیں۔12فروری کے انتخابات کی آمدنے سیاسی فضاکومزیدسنجیدہ بنادیاہے۔عبوری سربراہ کیلئے چیلنج یہی ہے کہ وہ انتخابی مرحلے سے قبل امن واطمینان کی فضاہموارکرسکیں۔اس لئے12فروری کا انتخاب صرف اقتدارکی تبدیلی نہیں بلکہ استحکام اوربیچینی کے درمیان فیصلہ کن لکیرثابت ہوسکتاہے۔عبوری حکومت کا اصل امتحان تشددکی آگ بجھانااوررائے دہی کیلئیپرامن فضافراہم کرناہے۔
عوامی لیگ کی غیرحاضری نے سیاسی بساط کونئی ترتیب دی ہے۔عوامی لیگ کی عدم شرکت کے باعث بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے امکانات روشن دکھائے دیتے ہیں،البتہ مذہبی سیاسی قوتیں بھی ایک موثرچیلنج کے طورپرسامنے آ سکتی ہیں اورمذہبی سیاسی قوتوں کی متحرک موجودگی سیاسی معاملات کومزیدپیچیدہ بناسکتی ہے۔سیاست کادریاسیدھی لکیرمیں نہیں بہتا ۔ سیاست کاشطرنجی کھیل اپنے پتے ابھی مکمل طورپرنہیں کھولتاکہ نتائج کسی اور منظرنامے کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔۔
بھارت کے پالیسی سازاس صورتحال کومحض بیرونی مسئلہ نہیں،بلکہ داخلی سلامتی سے جڑامعاملہ سمجھ رہے ہیں۔دانادل یہی کہتے ہیں کہ ہمسائے آگ لگنے پرتماشانہیں دیکھتے ،وہ پانی ڈھونڈتے ہیں۔بھارت کے سیاسی ودفاعی حلقوں میں بھی اس صورتِ حال کوبڑا اسٹریٹجک چیلنج سمجھاجارہاہے۔سابق سفارتکاراس امرپرمتفق ہیں کہ زمینی حقائق کوتسلیم کرتے ہوئے اعتماد سازی کی نئی بنیادڈالناوقت کی ضرورت ہیکہ پڑوسی دیوارنہیں،سایہ داردرخت ہواکرتے ہیں لیکن بدنصیبی یہ ہے کہ مودی حکومت سایہ داردرختوں کی نہ صرف کٹائی بلکہ کانٹوں کی افزائش پرعملدرآمدہے۔
انتخابی نتائج کچھ بھی ہوں،منزل ایک ہی ہونی چاہیے:امن،احترام اورباہمی اعتماد۔الزام تراشی سے سیاسی زمین بنجرہو جاتی ہے؛گفت وشنیدسے اس میں فصل اگتی ہے۔آج کی ضرورت یہی ہے کہ خطے کے رہنمااناکے میناروں سے اترکرعقل اورانصاف کے فرش پربیٹھیں۔بھارت کی جانب سے منتخب حکومت کے ساتھ مکالمے کی بات بھی سامنے آئی ہے ۔اوراسی کے ساتھ یہ تلخ نوٹ بھی سنائی دیتاہے کہ باہمی بداعتمادی کی یہ آگ کسی ایک بیان یافیصلے سے نہیں بجھے گی۔اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ الزامات کی گولہ باری کے بجائے عقل وتدبر،تحمل وبرداشت اورانصاف واعتدال کے چراغ روشن کیے جائیں لیکن صدافسوس کہ مودی سرکارکے تمام اقدامات اس کے برعکس ہیں اورتکبرکی آگ ایک دن سب کچھ بھسم کرکے رکھ دے گی اور دنیاکی بڑی جمہوریت کے دعوے کا قلعہ کھل کرسامنے آجائے گی لیکن تب تک بہت دیرہوچکی ہوگی۔۔
تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ سرحدیں زمین پرکھنچی ہوں یادلوں پرانہیں پارکرنے کاواحدراستہ مکالمہ،انصاف اور باہمی احترام ہے۔بنگلہ دیش اوربھارت کے تعلقات کایہ باب بظاہرابھی بند نظرآرہاہیلیکن قلم چل رہاہے،سیاہی آج بھی گیلی ہے۔اب دیکھنایہ ہے کہ آنے والی سطریں صلح وآشتی کی خوشبو سے لبریزہوتی ہیں یابدگمانیوں کی گردان پر چھا جاتی ہے۔
یہ تمام واقعات محض خبریں نہیں،تاریخ کے صفحات پرلکھی جانے والی سطورہیں۔آنے والے دن طے کریں گے کہ یہ سطورآنسوں سے لکھی جائیں گی یامسکراہٹوں سے۔اختیار انسان کے ہاتھ میں ہے اورفیصلہ وقت کی عدالت میں محفوظ ہے۔تاریخ اپنی آنکھوں میں آنسو لیے کھڑی ہے اوروقت اپنی مٹھی میں ایک سوال سنبھالے ہوئے ہے،کیاانسان پھر انسان بنے گا؟بنگلہ دیش ہویابھارتزمین کے یہ ٹکڑے ہماری آزمائش ہیں،ورنہ اصل سرحدیں تودلوں میں بنتی اورٹوٹتی ہیں۔ معصوم عثمان ہادیاس کے خون کے ہرقطرے نے آسمان تک رسائی پالی ہے اورعدل کے پیمانوں کوپکاراہے۔
اسلام ہمیں سکھاتا ہے بیشک مسلمان آپس یں بھائی بھائی ہیں۔مگرہم نے اس بھائی چارے کوسیاسی نعروں کے ہجوم میں کہیں گم کردیاہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران ہوں یاعوام، دانشورہوں یارہنماسب اپنے گریبانوں میں جھانکیں اوریہ عہد دوبارہ تازہ کریں کہ ظلم کسی قسم کاہو،کسی رنگ کاہو،اورکسی سرحدکے اندرہوہم اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔اپنے دل پرہاتھ رکھ کریہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے عثمان ہادی کواپنابھائی سمجھا،اپنے جسم کاحصہ سمجھا توپھراس کے ناحق قتل پرہم نے بطورریاست پاکستان کس قدراحتجاج کیا؟
ہمیں یہ سمجھناہوگاکہ سفارتی تعلقات کی بحالی سے پہلے قلوب کی مرمت ضروری ہے۔نفرت کے خیمے اکھاڑکرانصاف کے خیمے نصب کرناہوں گے۔سیاست کوانتقام کی بجائے خدمت کالبادہ اوڑھناہوگالیکن جب تک پڑوس میں متعصب ہندتواآر ایس ایس کے نمائندے مودی کی حکومت ہے، اس خطے میں امن کاحصول محض ایک خواب بنتاجارہاہے ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ امت مسلمہ کے تمام پلیٹ فارمزپرمتحد ہوکراس خطرے کی نشاندہی کرکے متعصب ہندوتواکونکیل ڈالی جائے۔
دعا یہی ہے کہ اے ربِ کائنات!
جن دلوں میں نفرت نے بسیراکیاہے وہاں محبت اتاردے،جہاں ناانصافی نے ڈیرے ڈالے ہیں وہاں عدل کاسورج طلوع کر، اس خطے کے مسلمانوں کووہ بصیرت عطافرماکہ وہ تفرقے کی راہوں سے نکل کراخوت اورایمان کی شاہراہ پرآجائیں۔آخرکار فیصلہ سیاست دانوں کا نہیں،ضمیر اور اللہ کی عدالت کا ہے۔