قتلِ حسین اصل میں مرگ یزید ہے

 ابوالبرکات شاذ قاسمی 
اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران  پر حملہ کر کے وہاں کے سینیئر لیڈران کو شہید کر دیا ہے فروری ماہ کے اختتام اور رواں ماہ رمضان کے مبارک مہینے میں اسرائیل اور امریکہ کا یہ حملہ غیر متوقع نہیں تھا مگر اس حملے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ ایران کے وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے ہم پر تھوپا گیا ہے خبر موصول ہو رہی  ہے کہ  اسرائیل و امریکہ کے اس حملہ میں  ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی  بھی شہادت ہوگئی ہے  پہلی نظر میں یہ خبر افواہ لگی کیونکہ فی زمانہ میڈیا اور سوشل میڈیا خاص طور سے ہندوستان میں نیشنل میڈیا کا جو طرز ابلاغ و ترسیل ہے  اس کو دیکھتے ہوئے اس قسم کی باتوں کو تسلیم کرنا اور خبر کو حتمی مان لینا یہ جلد بازی  ہوتا  تاہم اب ایران کی نیشنل میڈیا اور ایرانی اعلی عہدے داروں نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ رمضان المبارک کے مبارک مہینے میں ایرانی مذہبی و سیاسی رہنما 86 سالہ  پیر جواں ہمت  نے اللہ سے کیے اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے اپنی جان امت مسلمہ مرحومہ پر نثار کردیا ہے۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون) علامہ آیت اللہ خامنہ ای نہ یہ کہ ایران کے صدر اور مذہبی رہنما تھے بلکہ ایک انقلابی شخصیت کے مالک تھے،علوم شرعیہ کے ماہر تھے، سیاست کو بہت قریب اور باریکی سے جاننے والے تھے، دنیا بھر کے مسلمان خاص طور سے شیعہ اور کثیر تعداد  میں سنی بھی انہیں اپنا قائد و رہنما اور عالم اسلام کا نگہبان و پاسبان مانتے تھے انہوں نے پوری دنیا میں اسلامی تہذیب ، اسلامی شریعت ،اسلام کی سطوت اور رعب و دبدبہ قائم کرنے اور قائم رکھنے میں اپنا سب کچھ لگا دیا۔وہ عالم اسلام کے مظلوموں ،مقہوروں اور مجبوروں کے لیے رواں صدی کے مسیحا تھے۔  جب بھی امت مسلمہ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے ان کی طرف نگاہ غلط ڈالی گئی علامہ نے اس کا منہ توڑ جواب دیا اور باطل کے چہرے کو کالا کیا یہ ایران ہی تھا اور اس کے لیڈر علامہ آیت اللہ خامنہ ای ہی تھے جنہوں نے عالم اسلام اور عربوں کے وسط میں دوہرے کردار کے عربوں کی ملی بھگت سے جب اسرائیل بنا تو انہوں نے اس کے ناپاک وجود کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور آج تک کرتے رہے جبکہ عرب ممالک سعودی سمیت اس نوزائیدہ کو تسلیم کر لئے۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال جب فلسطین پر اسرائیل نے حملہ کیا جو نصف صدی سے کرتا آرہا ہے اور فلسطینی مسلمانوں بچوں عورتوں بوڑھوں کو قتل کیا عام شہریوں کو ہلاک کیا جبکہ  پورا عالم عرب خود کو اہل السنہ والجماعت کہنے والے کتاب و سنت کا درس دینے والے سعودی عرب متحدہ عرب امارات دبئی اور  تمام خلیجی ممالک بشمول پوری دنیا تماشائی بنی ہوئی تھی یہی  مرد شجاع تھا جس نے حیدری شمسیر لے کر اسرائیل و امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور تمام عالم اسلام کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا آج پوری اسلامی  دنیا امریکہ اور اسرائیل کی بالادستی کو قبول کر چکی ہے سعودی عرب نے تو امریکہ کی بالادستی قبول کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی بے حیائی و بے شرمی ناچ گانے شراب و شباب والی تہذیب کو بھی اپنا لیا ہے یہی نہیں وہاں کے چند نام نہاد  علماء￿  نے قرآن و احادیث  میں تاویل و غلط تشریح کر کے مسلمانوں کے سامنے بزدلی کو عین عبادت بنا چکے ہیں  وہ بزدلی کو نمونے کا عمل بتاتے ہیں  قرآن و احادیث کے ان حصوں کا جس میں اہل کتاب کے ساتھ رواداری کی باتیں کی گئی ہیں ؛ کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں گویا یہ اہل کتاب دور اول کہ اہل کتاب ہوں؛ حالانکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ موجودہ اسرائیل و امریکہ کی جارحیت اور امت مسلمہ کے ساتھ ان کی نفرت و دشمنی کسی بھی طرح رواداری و حسن سلوک کا متقاضی نہیں ہے یہ  رحم کے قابل نہیں  بلکہ یہ کان کے بدلے کان اور ناک کے بدلے ناک والی جوابی کاروائی کے مستحق ہیں۔ علامہ آیت اللہ خامنہ ای اور ایران نے ان کو اسی قسم کا جواب دیا ہے  دوسری اہم بات یہ بھی ہے  کہ اسرائیل کا گریٹر  اسرائیل بننے کا خواب جو ان کا بنیادی مقصد اور دیرینہ خواہش ہے جس کی تکمیل کے لیے  وہ ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں علامہ آیت اللہ خامنہ اء اور ایران  ہی نے اب تک اس خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے نہیں دیا تھا اس  راہ کی دیوار بن کر کھڑے  تھے  جبکہ سعودی عرب متحدہ عرب امارات دبئی جیسے نامراد اور نام نہاد مسلم ممالک اسرائیل کو اپنا خدا و معبود، قبلہ و کعبہ تسلیم کر چکے ہیں یہں وجہ ہے کہ اسرائیل کی نگاہوں میں ایران اور اس کے انقلابی رہنما علامہ آیت اللہ خامنہ ای ہمیشہ کھٹکتیتھے  جن کو وہ ہر ممکن ہٹانا چاہتے تھے اور آج عرب کے نام نہاد منافق، ضمیر فروش ،بے غیرت ،مسلم نما منافقوں کی مدد سے یہ کام پورا کر چکے ہیں  اور علامہ جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں 86 سال کے آدمی کو بالآخر مرنا ہی تھا مگر شجاعت بہادری اور باطل سے لڑتے ہوئے مرنا اور مرنے کی تمنا کرنا یہ غازیوں مجاہدوں شہیدوں کا کام ہے اور علامہ اسی راہ عزیمت کے مسافر ہو چکے ہیں۔ درس گاہوں میں منبروں پر مجلسوں میں راہ چلتے پھرتے  جہاد کا درس دینا ،جہاد کی باتیں کرنا لمبی لمبی بحثیں کرنا یونیورسٹیوں میں بیٹھ کر تحقیق تدقیق اور کتابیں تصنیف کرنا کسی کو کافر باطل شیعہ سنی کہنا فتوے دینا اور بات ہے اور مردان کارزار میں جب کے سروں پر موت کے بادل منڈلا رہے ہوں دشمن کے سامنے ڈٹے رہنا، جہاد کرنا حدیث دیگراں !!!!!! بلاشبہ علامہ آیت اللہ خامنہ ای اس کائنات کے لیے اللہ رب العزت کی ایک کھلی نشانی( آیت) تھے جو تقریبا  پوری عمر اسلام کی نش?? ثانیہ کی  کوشش کرتے رہے دشمنان اسلام سے جہاد کرتے رہے اور آج ان کی شہادت ہوگئی ہے شہادت  کی خبر پاکر  پوری دنیا خاص طور سے ایران کے لوگوں میں غصہ کی لہر ہے علامہ کے چاہنے والے تہران کی سڑکوں پر ہیں ان کے قلوب  شہادت کے جذبہ سے سرشار ہیں سب  سر بکف ہیں سب علامہ پر نثار ہیں تہران میں  لبیک لبیک کی صدائیں گونج رہی ہیں۔
خون حسین اصل میں مرگ یزید ہے
 اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
اس طرح امریکہ و اسرائیل کا وہ بیانیہ بھی غلط ثابت ہوا کہ ایران کی عوام خامنہ ای حکومت سے بیزار ہو چکی ہے تہران اصفہان کی سڑکوں پر عوام کا جم غفیر بتاتا ہے کہ پورا ایران علامہ کو اپنا پیشوا و رہبر اور روحانی رہنما مانتا ہے۔
 ایران نے عرب میں موجود امریکی بحری بیڑوں کو نشانہ بنایا ہے اور ایک بار پھر اب جوابی کاروائی کے لیے تیار ہے اس کے لیے" کرو یا مرو" کا وقت ہے جبکہ  یہ لمحہ امت مسلمہ کی ناموس و عزت کے لیے بہت ہی اہم ہے کیوں کہ  اب یا تو عربوں کی غیرت زندہ ہوگی وہ خواب غفلت سے بیدار ہوں گے آپسی  اتحاد اتفاق کو اہمیت دیں گے اور شیشہ پلائی دیوار بن جائیں گے جس کا قرآن نے ان سے مطالبہ کیا ہے یا پھر وہ امریکہ وہ اسرائیل  کو گریٹر اسرائیل کی طرف آگے بڑھنے کا موقع دیں  گے یہ بات تو اب صاف ظاہر ہوگئی ہے کہ علامہ آیت اللہ خامنہ اء اور ایران کے بعد اب  اگلا نشانہ دوسرے اسلامی ممالک ہوں گے یقیناً  اگر ایران پسپا ہوتا ہے  تو اگلا نمبر انہی منافقین کا ہے جنہوں نے امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دے کر علامہ ایت اللہ خامنہ ای  کو شہید کیا ہے۔۔۔ جنگ جاری ہے نتیجہ کیا ہوگا ؟؟ آنے والا وقت خود بتائے گا۔۔