تاریخ کے ترازو پر عدل اور سیاست

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
جب دل کی بستیوں میں اضطراب ٹھہرجائے،جب شہروں کی گلیاں صدائے فریادبن جائیں،اورجب امتِ مسلمہ کے چہرے پر فکرکی سلوٹیں گہری ہوجائیں،توتاریخ خاموش نہیں رہتیوہ پکاربن کربول اٹھتی ہے۔آج بنگلہ دیش اوربھارت کے درمیان ابھرتی ہوئی کشیدگی محض بین الاقوامی سیاست کاباب نہیں،بلکہ دلوں کے زخموں،یادوں کے کرب اور معاہدوں کے بکھرے ہوئے کاغذوں کی کہانی ہے۔
یہ وہ سرزمین ہے جس نے کبھی اخوت کے نغمے گنگنائے تھے،مگرآج نفرت کی گردنے ان نغموں کی لے کوگہنادیاہے۔ معصوم جانوں کاناحق بہتاخون،سفارتی ایوانوں کی بے چین فضا،اقلیتوں کے لرزتے ہوئے دل،اورسیاست کے بازی گرسب مل کرہمیں اس حقیقت کااحساس دلاتے ہیں کہ جب عدل اٹھ جاتاہے توزمین کانپتی نہیں،دل کانپنے لگتے ہیں۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے: اللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لواورتفرقہ نہ ڈالو۔
مگرافسوس،ہمارے عہدکی سیاست نے اسی رسی کوچھوڑکراختلافات کے خاردارجھاڑجھنکارکوتھام لیاہے۔اس رپورٹ کا مقصدکسی نفرت کے شعلے کوہوادینانہیں،بلکہ ضمیرکے دروازوں پردستک دیناہے کہاں گرے ہم؟ کب بھٹکے ہم؟اورکب ہم پھرسے قرآن وسنت کی چھاؤں میں عادلانہ معاشروں کی طرف پلٹیں گے؟
بنگلہ دیش میں حالیہ شورش محض ایک واقعہ نہیں بلکہ کئی برسوں سے پلتے شکوؤں،تحفظات اورباہمی بدگمانیوں کا برآمدہ ہے۔مظاہرے،ہنگامے،سفارتی احتجاج اورالزام تراشیوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات کے کچے دھاگے کومزیدنازک بنادیاہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ ماضی کی رفاقت کاقافلہ راہوں میں تھک گیاہے اورنئی سیاسی ہوانے دوستی کے چراغ کو لرزادیاہے۔سوال یہیں جاٹھہرتاہے کہ کیایہ تعلقات محض وقتی دھندہیں یادائمی خلیج میں بدل جائیں گے؟
یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش میں حالیہ پرتشددمظاہروں نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجودکشیدگی کواورزیادہ گہراکردیاہے۔الزام تراشی کایہ تبادلہ صبحِ ازل سے شروع نہیں ہوا ،مگرآج صورتحال اس نہج تک آن پہنچی ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کے سفارتی عملے کوطلب کرکے احتجاج ریکارڈکراتے اورعوامی سطح پرسخت بیانات جاری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ جوکبھی رفاقت کے سائے تلے ساتھ ساتھ چلتے تھے،کیاوہ پھرکبھی تاریخ کے کسی موڑپرشانہ بشانہ کھڑے ہوسکیں گے؟
ڈیپوچندراکی ہلاکت نے نہ صرف انسانی دلوں کودہلادیابلکہ فرقہ وارانہ حساسیت کوبھی جھنجھوڑڈالا۔چندراکی ہلاکت نے فضامیں مزیدبارودگھول دیااوراس حادثے کی بازگشت ہندو تنگ نظرحلقوں میں سخت ردعمل کی صورت سنائی دی۔دوسری طرف عثمان ہادی کاقتل اپنے ساتھ سیاسی معانی اورتہہ درتہہ سوال لے آیا۔عثمان ہادی کے قتل پربرپاہونے والے پرتشدد مظاہرے پہلے ہی شہردرشہربے قراری پھیلاچکے تھے۔قاتل کے مبینہ بیرونِ ملک فرارکی خبرخواہ درست ہویابے بنیاد،اس نے عوامی اذہان میں غصے اوربدگمانی کے بیج بودیے ۔معاشرے کی نبض نے اسی لمحے بتادیاکہ جذباتی اضطراب ریاستی بیانیے سے کہیں آگے نکل چکاہے۔الزام یہ بھی ابھراکہ مبینہ قاتل کاتعلق عوامی لیگ سے تھااوروہ بھارت فرارہوا، اگرچہ پولیس نے اس کی تردیدکی۔مگرجذبات کادریاجب طغیانی پرہوتودلیل کی کشتی ہلکی پڑجاتی ہے۔
اسی تلخ فضامیں ویزاسروسزکی معطلی گویادودلوں کے درمیان کھڑی نئی دیواربن گئی۔دونوں طرف سے سفارتی مشنزکی سکیورٹی پراعتراضات اٹھے،اورکمشنرزکی طلبی اس بے چینی کی علامت بن گئی۔ویزہ سروس کی معطلی محض سفارتی اقدام نہیں ہوتی،یہ دراصل لوگوں کے ملنے ملانے کے پل منہدم کردیتی ہے۔طالب علموں،تاجروں،مریضوں اوراہلِ خاندان کیلئے یہ ایک نفسیاتی دیوارکھڑی کردیتی ہے۔سفارتی کمشنروں کی طلبی گویارسمی لفاظی نہیں بلکہ اس تلخی کی علامت ہے جس نے دونوں حکومتوں کے اعصاب کوبوجھل کردیاہے۔یوں دکھائی دیتاہے کہ سفارت کاری کی شطرنج میں اب نرم مہروں کی جگہ سخت چالیں چلائی جارہی ہیں۔سابق سفارت کاروں کی تشویش بھی اسی حقیقت کی غمازہے کہ حالات کس رخ جاپڑیں،کہنادشوارہوچلاہے۔
بنگلہ دیش میں بھارت مخالف جذبات نئی پودنہیں؛یہ شجرپراناہے جس نے نئی شاخیں نکالی ہیں۔شیخ حسینہ کے طویل دورِ اقتدارمیں بھارت کے اثرونفوذکی شکایتیں کچھ حلقوں میں پہلے ہی پل رہی تھیں۔بھارت مخالف جذبات محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ تاریخ کے طویل سلسلے کی پیداوارہیں۔1971کے بعدکی سیاست،سرحدی معاملات،پانی کی تقسیم،تجارتی توازن اورسیاسی مداخلت کے شبہات نے اس جذباتی فضاکوہمیشہ نمناک رکھا۔شیخ حسینہ کے دورکوبعض حلقوں نے بھارت نوازی سے تعبیرکیا،جس کے نتیجے میں یہ تاثرراسخ ہواکہ قومی خودمختاری کاجذبہ کہیں دب کررہ گیاہے۔
معزولی کے بعدان کی بھارت میں پناہ نے ان جذبات کواوربھڑکادیا۔ڈھاکہ کی طرف سے بارہادرخواستوں کے باوجود حوالگی نہ ہوناعوامی حلقوں میں سوالات چھوڑگیااورشکوک کی آگ میں نیاایندھن پڑگیا۔اقتدارسے علیحدگی کے بعدبھارت میں قیام نے سیاسی بیانیے میں نئی گرہیں ڈال دیں۔عوامی رائے عامہ کے کچھ حلقوں نے اسے بیرونی سرپرستی کی علامت کے طورپردیکھا۔حوالگی سے متعلق مطالبات کاردہوناقانون وسفارت کے دائرے میں ہوسکتاہے،مگرعوامی جذبات کی عدالت میں فیصلے اکثراورطرح سے لکھے جاتے ہیں۔
نوجوان قیادت کالب ولہجہ قوم کے باطن کی دھڑکن ہوتاہے۔جب زبان میں شعلہ اوردل میں انگارہ اترآئے توسیاسی اعتدال پیچھے رہ جاتاہے۔بھارت مخالف تقاریراورنعرے اسی دبے ہوئے غصے کی علامت ہیں جوبرسوں تک سیاسی ادب وآداب کے پردوں میں چھپارہا۔عثمان ہادی کے قتل کے بعدبعض نوجوان رہنماں کے سخت بیانات نے فضامیں گرمی پیداکی۔زبان جب شعلہ بن جائے توکان جلنے لگتے ہیں اورعقل دبک کرایک طرف ہوبیٹھتی ہے۔
ہائی کمیشنوں کے باہرجمع ہوتے ہجوم محض افرادکاہجوم نہیں،یہ جذبات کی مجتمع صورت ہوتی ہے۔ڈھاکہ سے چٹاگانگ تک،انڈین مشنزکے قریب احتجاج اورپتھراکے واقعات سامنے آئے۔پتھرااوراس کے بعدگرفتاری ورہائی کاسلسلہ یہی بتاتا ہے کہ ریاستی ادارے جذباتی طغیان کے سامنے خودکسی حدتک دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیتے ہیں۔سرحدکے دونوں جانب ریلیوں کامقابلہ دراصل بیانیوں کی جنگ کامظہربن گیا۔ڈھاکہ سے چٹاگانگ تک، انڈین مشنز کے قریب احتجاج اور پتھرا کے واقعات سامنے آئے۔گرفتاریاں ہوئیں،رہائیاں ہوئیں،اورغیرمنصفانہ احتجاج کے الفاظ دونوں طرف کے جملوں میں درآئے۔سرحدکے دونوں جانب ریلیاں نکلیں اورفضامیں بدگمانیوں کے پرندے منڈلانے لگے۔
بداعتمادی وہ دیمک ہے جومضبوط سے مضبوط رشتوں کوبھی اندرسے کھوکھلاکردیتی ہے۔سابق سفارتکاروں کے تجزیات اسی داخلی سڑن کی نشاندہی کرتے ہیں۔بین الاقوامی اصولوں کاتقاضاہے کہ سفارتی مشنزمقدس امانت ہوتے ہیں،مگرجب جذبات غالب آجائیں توامانتیں بھی خطرے میں محسوس ہونے لگتی ہیں۔سابق سفارتکارکے بقول ایسی بداعتمادی پہلے کبھی نہ تھی۔بین الاقوامی تعلقات کاطلائی اصول یہی ہے کہ سفارتی مشنزکاتحفظ اولین ذمہ داری ہے اوریہی اصول اس وقت آزمائش گاہ میں کھڑانظرآتاہے۔
درخت سے باندھ کر آگ لگا دینایہ جملہ ہی انسانی روح کو لرزا دیتا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف ہندو حلقوں میں اضطراب بڑھایا بلکہ ریاستی رٹ، قانون کی عمل داری اور اقلیتوں کے حقوق کے باب میں نئے سوال اٹھا دیے۔ سوشل میڈیا نے اس سانحے کو لمحوں میں سرحدوں سے آزاد کر کے انسانی ضمیر کے دروازوں پر دستک دے ڈالی۔ہندو ملازم داس کی المناک ہلاکت،درخت سے باندھ کرآگ لگادینے کااندوہناک منظراوراس کی ویڈیوکاپھیلایہ سب کچھ غصے اوراشتعال کے شعلوں کوبلندترکرتاچلاگیا۔اس سانحے نے اقلیتوں کے تحفظ کے باب میں نئے سوالات کوجنم دیا۔ساتھ ہی مختلف حلقوں کی جانب سے طرح طرح کی نسبتیں اوراشارے سامنے آتے رہے جنہیں ذمہ دارانہ تحقیق اورعدالتی طریقہ کارکی کسوٹی پرپرکھناناگزیرہے۔
عبوری حکومت کے سربراہ کابیان امیدکی شمع ضرورہے،مگرتاریخ کاکاتب یہ بھی لکھتاہے کہ صرف بیان کافی نہیں ہوتا۔ قانون کوطاقت سے نہیں،انصاف سے وقعت ملتی ہے۔اب نگاہیں اس پرہیں کہ یہ وعدہ عمل کی صورت کس طرح ڈھلتاہے۔ عبوری حکومت کے سربراہ محمدیونس نے صاف الفاظ میں کہاکہ نئے بنگلہ دیش میں اس قسم کے تشددکی کوئی گنجائش نہیں ۔(جاری ہے)