سید منیر حسین گیلانی
اسلامی جمہوریہ ایران اورغاصب شیطانی ریاست اسرائیل کے درمیان جنگ نے دنیا پر سورہ فیل کی روشنی میں بہت کچھ واضح کر دیا ہے، بڑی مدت سے جاری ابہام اور مفروضے دم توڑ چکے ہیں۔ گذشتہ ماہ مسلط جنگ میں جس انداز سے بھارت کے مقابلے میں رب ذوالجلال نے پاکستان کو عزت سے نوازا، اسی طرح ایرانی قوم نے جس جوانمردی، استقامت اور استقلال سے بین الاقوامی سازشوں کا منہ توڑ جواب دیا ہے وہ تاریخ میں اعلیٰ مثال کے طور پر یاد رکھا جائیگا۔ ماضی میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب کیخلاف بین الاقوامی سازشیں 1979ء سے جاری ہیں، جن کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان ہوچکا ہے۔ مگر ایرانی قوم کے پایہ استقلال میں لغزش نہیں آئی۔ عالمی طاقتوں کی سرپرستی میں عراق کیساتھ جنگ میں ایران کا بہت زیادہ نقصان ہوا۔ شہروں کو برباد کردیا گیا، لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے، جنگ کا سامنا کرتے رہے۔ جب سے اسلامی حکومت تشکیل پائی ہے، ایرانی رہنماؤں اوراعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو یکے بعد دیگرے حملوں میں شہید کیا گیا۔ ایران کے صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی اور وزیرخارجہ حسین عبداللہیان کو ساتھیوں سمیت شہید کیا گیا، حتیٰ کہ نئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے مدعو حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو گزشتہ برس 31 جولائی 2024ء کو بھی شہید کر دیا گیا۔ حیرت کی بات ہے کہ دنیا ایران کی ہمت اور اسلام سے محبت کو سمجھ نہیں پا رہی۔ یہ قوم ہرگز بین الاقوامی سازشوں اور عالمی قوتوں کے سامنے نہیں جھکے گی، ہاں قربانیاں دیتی رہے گی۔ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکہ برطانیہ اور یورپی ممالک اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں اور ہر قسم کا اسلحہ بھی مہیا کر رہے ہیں۔ مگر ایران تنہا میدان میں کھڑا ہے۔ اسلامی ممالک نے بھی کوئی اعلان نہیں کیا، سوائے مذمتی بیانات کے۔ چند دن پہلے کینیڈا میں جی سیون ممالک کے جاری اجلاس کو امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ ادھورا چھوڑ کر واشنگٹن پہنچے اور وائٹ ہاوس میں اپنی سکیورٹی کونسل کے ارکان کو پہنچنے کا حکم دیا۔ راستے میں وہ مکارانہ اور منافقانہ گفتگو بھی کرتے رہے کہ میں دونوں ممالک میں صلح کروانے کی کوشش کروں گا، پھر اگلے ہی مرحلے میں یوٹرن لیتے ہوئے دھمکی آمیز بیان جاری کردیا کہ ایرانی شہری تہران کو خالی کر دیں، ایرانی دارالحکومت پر بھرپور حملہ کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ احمق ڈونلڈ ٹرمپ کو شرم آنی چاہیے، یہ سفارتی آداب اور انسانی اقدار بھول گیا ہے، اس کی یاداشت اتنی کمزور ہے یا دنیا کو بیوقوف سمجھتا ہے کہ اسے یاد نہیں کہ بلاوجہ حملہ کرکے ایران کی بڑی فوجی دفاعی سفارتی شخصیات کو شہید کیا گیا۔ پہلے اسرائیلی حملے میں استعماری قوتوں اور صیہونی ریاست کوتاثر ملا کہ ایران ختم ہو چکا ہے، اسے غزہ بنا دیں گے، مگر یہ ان کی خام خیالی اور خوش فہمی تھی۔ ایران کے آرمی چیف جنرل محمد باقری، پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف جنرل حسین سلامی، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے سکیورٹی مشیرعلی شامخانی، مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر انچیف غلام علی ارشد، انٹیلی جنس چیف محمد کاظمی، اوراب تک 14 ایٹمی سائنسدانوں جیسی بڑی شخصیات کو شہید کیا جا چکا ہے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ ان بڑی شخصیات کو شہید کرکے اس نے اپنے مقاصد حاصل کر لئے، مگر اسے یاد نہیں کہ سابقہ ادوار میں بھی بڑے بڑے اعلیٰ حکومتی اور دفاعی عہدیداروں بشمول صدر، وزیراعظم، ایٹمی سائنسدانوں کو ٹارگٹ کیا گیا، مگر ایران اپنے قدموں پر استقلال کیساتھ کھڑا ہے۔ اسرائیل کے بڑے حملے کے بعد امریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا کہ ایرانی مملکت اور حکومت ختم ہوگئی ہے، لیکن اگلے ہی دن ایران کی طرف سے اسرائیل پر بھرپور حملہ کیا گیا تو دنیا ششدر ہو کر رہ گئی۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کو بڑی حیرانی ہوئی کہ اتنے شہداء کے بعد بھی ایران نے ایسا بھرپور جواب دیا کہ اسرائیل کی جدید ٹیکنالوجی ایرانی میزائیل حملوں نے ناکام بنا دی اور انہیں روک نہ سکی۔ اب دونوں اطراف سے حملے جاری ہیں۔ ایران کی دفاعی قوت نے ہر جگہ پر بھی اسرائیلی حملے کا جواب بھرپور دیا ہے، جس سے اسرائیل میں تباہی مچ گئی۔ جبکہ نیتن یاہو کسی محفوظ علاقے میں چھپ چکا ہے اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ جبکہ ایرانی قیادت اور ان کے ساتھیوں نے بھی اعلان کیا ہے کہ ہم شہادت کو سعادت سمجھتے ہیں۔ انسان فانی ہے افراد آتے جاتے رہتے ہیں، اسلام اور مملکت باقی رہیں گے۔ حتیٰ کہ اسرائیل اور عالمی سامراج نے دیکھ بھی لیا ہے کہ دفاعی سیاسی قیادت میں ایک سربراہ شہید ہوتا ہے تو اگلے چند ہی لمحوں میں کوئی دوسرا شخص خالی عہدے پر تعینات کر دیا جاتا ہے اور وہ اپنا کام شروع کرتے ہی پہلے سے زیادہ شدت کیساتھ طاقتور حملے کرتا ہے۔ اس طرح کے واقعات کی وجہ سے ہی اسرائیل کی ناکامی کی چیخیں جی سیون کے اجلاس میں بھی سنی گئیں۔ جی سیون ممالک کے اسرائیل کیساتھ کھڑے ہونے کیساتھ دوسری پیشرفت پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ اوول آفس میں ملاقات اوران کے اعزاز میں ظہرانہ ہے۔ ہاں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ پاکستان اور بھارت کی جنگ میں پرامن مظاہرے اور سیزفائر پر عاصم منیر کا شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے، ان کی میزبانی اعزاز ہے۔ ملاقات میں ایران اسرائیل جنگ پر بھی ان کی گفتگو ہوئی ہے، اب یہ گفتگو کیا ہوئی ہے اس کی پوری تفصیلات اور امریکہ کا مطالبہ منظرعام پر نہیں آیا۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ کوئی ایسی گفتگو نہیں ہوگی جو ایران کی سلامتی اورپاکستانی عوام کی منشا کیخلاف ہو۔ ہم پر امید ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں نائن الیون کے بعد امریکہ کیساتھ مل کر افغانستان کی تباہی جیسا کردارایران کیخلاف امریکی لابی کا حصہ بن کرادا نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اسے قبول کیا جائے گا۔ البتہ یہ واضح ہے کہ ہمیں پتہ نہیں کہ اس انوکھی ملاقات کا ایجنڈا کیا تھا؟ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ جنگ کے حوالے سے کچھ نہ کچھ امریکہ کی طرف سے پاکستان پر دباو ضرور ڈالا گیا ہوگا کہ پاکستان اس جنگ میں غیرجانبدار رہے یا امریکہ کا ساتھ دے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں تین روزہ جنگ میں افواج پاکستان کے جرائتمندانہ کردار کی وجہ سے انہیں ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔ فیلڈ مارشل کا تمغہ سینے پر سجائے آل نبی اولاد علی فیلڈ مارشل عاصم منیر برادر ہمسایہ اسلامی ملک ایران کا تحفظ کریں گے اور ہم امریکی لابی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ انہوں نے ٹرمپ کو باور کروایا ہوگا کہ ایران ایک قوم اور مملکت ہے، جس کی بنیاد اڑھائی ہزار سال پہلے رکھی گئی اور مختلف واقعات میں اور خطرات سے وہ نبرد آزما ہو چکے ہیں، لہٰذا امریکہ ایران پر حملے کی غلطی نہ کرے۔ ولی امرالمسلمین آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای کو قتل کرنے کی باتیں نیتن یاہو کررہا ہے، البتہ ٹرمپ اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ اسی طرح حکومت کی تبدیلی کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں۔ لیکن دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ ایرانی قوم اپنی قیادت کیساتھ ہے۔ انقلاب اسلامی کے ابتدائی دنوں سے امریکہ علماء کے اثرورسوخ میں کمی اوراپنی مرضی کی حکومت لانے کی سازشیں کرتا رہا ہے، مگر ناکام رہا۔ ایرانی عوام اسرائیل ہو یا ماضی میں عراق کیساتھ جنگ، وہ کسی صورت بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپنے ملک اور قیادت کا دفاع شہادت کو سینے سے لگاتے ہوئے فخر سے کریں گے، کیونکہ انہوں نے طاغوت اور جابر حکمرانوں کیخلاف ڈٹ جانے کا درس کربلا سے لیا ہے۔ دنیا تو حیران ہے ہی، صحافی طبقہ ایران کے سرکاری ٹی وی اسٹیشن حملے کے وقت خاتون اینکر سحر امامی کی بہادری کی معترف نظر آتا ہے اور اسے اپنا ہیرو قراردیتا ہے کہ خبریں چھوڑ کر ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ دوبارہ ٹی وی سکرین پر نمودار ہوتی ہیں اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حق و حقیقت کا بیان دوبارہ شروع کر دیتی ہیں۔ انہوں نے کسی قسم کا خوف محسوس نہیں کیا بلکہ حملے کے وقت ان کے ساتھیوں نے اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرکے ثابت کیا کہ ہم بھاگنے والے نہیں، بلکہ جان کی قربانی دینے والے ہیں، ہمیں کوئی ڈرا نہیں سکتا۔ نجف اشرف عراق سے مرجع تقلید آیت اللہ سید علی سیستانی کا رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے قتل کے بیان پر ردعمل بروقت آیا ہے۔ یہ وہی شخصیت ہیں کہ جن کے فتوے کی وجہ سے داعش جیسا ناسور عراقی عوام نے اپنی سرزمین سے کاٹ کر پھینک دیا تھا۔ جبکہ علامہ سید ساجد علی نقوی سمیت ملی یکجہتی کونسل اور دیگر سیاسی قائدین نے بھی سپریم لیڈر کے قتل کے اعلانات کی مذمت کرتے ہوئے اسے سنگین غلطی قراردیا ہے۔ پاکستان سعودی عرب سمیت 22 ممالک کا ایران کی حمایت میں اعلامیہ قابل تحسین ہے، لیکن یہ کافی نہیں، تمام اسلامی ممالک کو اسلامی دفاعی بلاک تشکیل دے کر اسلامی مملکت کیساتھ کھڑے ہونا چاہیے۔ تمام ممالک کے پاس لاکھوں کی فوج موجود ہے، امید ہے اپنی باری کا انتظار کرنے کی بجائے ہم اسرائیل کی جارحیت کو یہیں روکیں گے، کیونکہ نیتن یاہو اپنے متعدد انٹرویوز میں واضح کر چکا ہے کہ ہم ایران اور پاکستان کے پاس ایٹمی قوت نہیں دیکھنا چاہتے تو دوسرے اسلامی ممالک کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے، کہ مجوزہ گریٹر اسرائیل کے نقشے میں کئی ممالک آتے ہیں۔