محمد قیصر چوہان
دہشت گردی کے عالمی چمپئن امریکا کی سرپرستی میں ناجائز اور دہشت گرد ریاست اسرائیل نے انبیا ئے کرام کی سر زمین فلسطین کو مسلمانوں کے خون سے سیراب کرتے ہوئے غزہ کی پٹی کو تباہ و برباداور فلسطینی عوام کی نسل کشی کرنے کے بعد دریائے فرات سے بحر احمر تک گریٹر اسرائیل قیام کے منصوبے کے تحت مشرقی وسطیٰ میں اپنی ریاستی دہشت گردی کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے لبنان اور شام پر بمباری کرنے کے بعد اب ایران پر جنگ مسلط کر دی ہے۔عالمی دہشت گرداسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی جانب دھکیلنے کی سازش ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ اسرائیلی دہشت گردی کا شکار ہے، لیکن اس بار ہدف ایران ہے۔عالمی اسرائیل نے 13 جون کو 200 لڑاکا طیاروں کے ساتھ ایران کی 100 سے زیادہ تنصیبات کو نشانہ بنایاتھاجس میں سربراہ پاسداران انقلاب ،آرمی چیف ، متعدداہم کمانڈرزاور جوہری سائنسدان سمیت عام عوام بھی شہیدہوئے ۔اسرائیل کا ایران پر حملہ درحقیقت نہ صرف ایک خودمختار ریاست پر حملہ ہے بلکہ یہ پورے عالم اسلام کے خلاف اعلان جنگ ہے۔
بلاشبہ اسرائیل کے ایران پر اچانک بلاجواز حملے کے پیچھے امریکا کی آشیر آباد شامل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک جانب تو علاقائی اور عالمی امن کے چمپئن بننا چاہتے ہیں اور دوسری جانب اسرائیلی بربریت کی سرپرستی کرکے علاقائی اور عالمی امن کو خود تاراج کر رہے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اسرائیل کی اس تازہ کارروائی نے خطے میں ہمہ گیر جنگ کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ امریکا کی پیشگی منظوری اور اعانت سے ایران پر اسرائیلی حملے نے تیسری اور سب سے خطرناک عالمی جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے۔ امریکا کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کی حمایت صرف وقتی مفاد نہیں بلکہ ایک اصولی پوزیشن ہے۔ امریکا اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنا ’فرنٹ لائن اتحادی‘ سمجھتا ہے، جو اس کے تزویراتی مقاصد کے لیے کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا سالانہ 3.8 بلین ڈالرز کی فوجی امداد اسرائیل کو دیتا ہے۔ جدید ترین اسلحہ، انٹیلی جنس شیئرنگ، سائبر ٹیکنالوجی، اور یہاں تک کہ جوہری دفاعی نظام بھی امریکا کی دین ہے۔ آئرن ڈوم جیسا میزائل دفاعی نظام امریکی سرمائے سے تیار ہوا۔ ایران نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط لکھا، حملوں کی شکایت کی اور فیصلہ کن ردعمل کا اعلان کیا۔ لیکن کیا سلامتی کونسل میں انصاف کی کوئی امید ہے؟ جب وہاں امریکا جیسا ویٹو پاور رکھتا ہو، تو وہاں انصاف کی تلاش کرنا کسی سراب کے پیچھے دوڑنے کے مترادف ہے۔ یہ جنگ صرف ایران کی نہیں۔ اگر آج امت مسلمہ نے ہوش کے ناخن نہ لیے، تو ایک ایک کر کے سب کی باری آئے گی۔ سعودی عرب جتنی بھی امریکا کی خوشامد کرے، اگر وہ مظلوم کے ساتھ کھڑا نہیں ہوتا، تو وہ وقت دور نہیں جب وہ بھی اسرائیل اور امریکا کی نظر میں بے مصرف ہو جائے گا۔ بد قسمتی سے اس وقت مسلم ممالک میں ہر طرف مفادات، مصلحتوں اور خاموشی کی دیوار کھڑی ہے۔ لیکن یہ دیوار کب تک باقی رہے گی؟ اسرائیل کا اگلا ہدف کون ہوگا؟ سعودی عرب، ترکیہ؟ پاکستان؟ یہ سوالات اب محض خدشات نہیں بلکہ امکانات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
پاکستان، چین ،سعودی عرب، ملائیشیا اور بعض دوسرے ممالک نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انھیں ایران کی علاقائی خود مختاری، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی مجرمانہ خلاف ورزی قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے اسرائیل کو عالمی امن خطرے میں ڈالنے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔امریکا جس طرح دہشت گرد اسرائیل کو اسلحہ اور گولہ بارود مہیا کر کے اسے شہہ دے رہا ہے، اس سے یہ پوری طرح واضح ہورہا ہے کہ امریکا عالمی امن کے خلاف ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل دونوں کی حالت کٹھ پتلیوں سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور مسلسل قراردادوں کے منظور ہونے کے باوجود اسرائیل کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہ کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ مسلم ممالک اگر ہمت کرسکتے ہیں تو خود ہی ہتھیار اٹھا کر اسرائیل کو سبق سکھا دیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ مسلم ممالک کے حکمران کھوکھلے بیانات جاری کرنے کے سوا کچھ نہیں کررہے ہیں اور ان کی اسی بے عملی کی وجہ سے صورتحال اس حد تک بگاڑ کا شکار ہوگئی ہے کہ اب یہ جنگ غزہ سے نکل کر پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی کا حق استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر دو سوسے زیادہ میزائل فائر کیے جوتل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس تک بھی پہنچے۔ جس سے سیکڑوں اپارٹمنٹس کونقصان پہنچا۔ایران کے خلاف اسرائیل کی بلاجواز اور سراسر ناجائز جارحیت اور ایران کی جوابی کارروائی کے بعد نہ صرف دونوں ملکوں میں بھرپور جنگ جاری ہے اوروہ میزائلوں اور فضائی حملوں کے ذریعے ایک دوسرے کے اہم تزویزی اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں بلکہ اس جنگ کا دائرہ وسیع تر ہونے کے آثار نمایاں ہوتے جارہے ہیں جبکہ ایسا ہوا تو پوری عالمی انسانی برادری کو بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصانات اور معاشی تباہی کی شکل میں نہایت سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ تاہم اسرائیل کے مغربی سرپرست ایران کے خلاف اس کی جارحانہ کارروائی کی عملاً حوصلہ افزائی کررہے ہیں اور صہیونی حکمرانوں کی حکمت عملی بھی یہی نظر آتی ہے کہ وہ ان کو جنگ کے میدان میں کھینچ لائیں۔ اسرائیلی حکومت ایران سے تنازع بڑھانا چاہتی ہے تاکہ امریکا کو بھی اس جنگ میں شامل کیا جائے جبکہ امریکا نے اپنا دفاعی میزائل نظام مشرق وسطیٰ منتقل کردیا ہے اوریو این سلامتی کونسل میں امریکی مندوب اعلان کرچکا ہے کہ اسرائیل کے دفاع کیلئے امریکا اس کیساتھ کھڑا رہے گا۔برطانیہ نے بھی اپنے لڑاکا طیارے مشرق وسطیٰ منتقل کرنا شروع کردیئے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے برطانیہ، فرانس اور امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان ممالک نے جاری جنگ میں اسرائیل کا دفاع کیا تو ایسی صورت میں تہران ان ممالک کے خطے میں موجود فوجی اڈوں کو ہدف بنائے گا۔ایران کا دفاع درحقیقت امت مسلمہ کے دفاع کا پہلا مورچہ ہے اگر یہ مورچہ ٹوٹ گیا تو اسرائیل اور امریکا مزید دلیر ہو جائیں گے اور پھر کوئی بھی ملک ان کی دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہے گا۔ یہ حملہ مستقبل کی جنگ کی پیش گوئی ہے۔ اب دنیا دو دھڑوں میں بٹ چکی ہے ، ایک طرف اسرائیل اور امریکا ہیں، دوسری طرف وہ ممالک جو ظلم کے خلاف کھڑے ہیں۔اسلامی دنیا کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ امریکا سے اپنی غلامی کا طوق اتار پھینکیں، او آئی سی کو فعال کریں اور ایک مشترکہ فوجی، اقتصادی، اور سفارتی محاذ بنائیں۔ یہی وقت ہے کہ امت مسلمہ ایک واضح اور بھرپور مؤقف اختیار کرے۔ بصورت دیگر تاریخ ہمیں صرف ذلت اور تباہی کی صورت میں یاد رکھے گی۔