ارشد مہدی جعفری
مشرق وسطیٰ ایک ایسے نازک اور تباہ کن مرحلے پر داخل ہو چکا ہے، جہاں صرف ایک چنگاری پورے خطے کو لپیٹ میں لینے کیلئے کافی ہے۔ تہران سے حیفہ تک اور واشنگٹن سے دہلی تک تمام عسکری، سفارتی اور انٹیلی جنس قوتیں میدان میں آ چکی ہیں۔ ایران کی جانب سے اسرائیلی اہداف پر تیز رفتار بلاسٹک میزائل حملے، شہروں میں خوف و ہراس اور اسرائیلی دفاعی نظام کی دراڑیں اب ایک حقیقت بن چکی ہیں، اسرائیل کی طویل جنگ کی تیاری نہ ہونے کا اثر بھی اب اس کے رویّے میں صاف نظر آ رہا ہے۔ ایسے میں ایران کی جانب سے جاری حملوں کی شدت میں روز بروز اضافہ اس بات کا عندیہ ہے کہ تہران کسی طور بھی پیچھے ہٹنے والا نہیں۔ ایرانی قیادت کی جانب سے گزشتہ ہفتے سے واضح طور پر موساد کو پورے اعتماد اور یقین کیساتھ جبکہ بھارتی ایجنسی "را" کو دبے لفظوں کیساتھ ایران میں ہونیوالے دہشتگردانہ حملوں میں ملوث قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ چاہ بہار معاہدے کے تحت بھارت کو جو زمینی رسائی دی گئی، اس سے اسرائیلی انٹیلی جنس کو آسانی سے ایران کے اندر نیٹ ورک بنانے میں مدد ملی۔ ایران نے خاص طور پر نشاندہی کی ہے کہ بھارتی پاسپورٹ پر داخل ہونیوالے افراد، اسرائیل کیلئے خفیہ مشنز سرانجام دیتے رہے۔ ان کے مطابق 11 جون کے بعد سے ہونیوالے کئی مہلک حملے، جن میں فوجی اڈے، میزائل گودام اور سائنسدانوں کی رہائش گاہیں نشانہ بنی ہیں، ان سب میں موساد اور "را" کی مشترکہ کارروائیاں شامل تھیں۔ اب تہران عالمی برادری سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ان مداخلتوں کو سنجیدگی سے لے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا گزشتہ روز جاری کردہ بیان، جس میں ایرانی عوام کو تہران خالی کرنے کی تنبیہ کی گئی، ایک نئی جنگی حکمت عملی کی جھلک دکھا رہا ہے۔ امریکی فوج کے تقریباً 40 جدید جنگی طیارے، میزائل ڈیفنس سسٹمز اور سپیشل فورسز مشرق وسطیٰ کے اڈوں پر پہنچا دی گئی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ امریکہ اب ثالث کی بجائے جنگی فریق بننے جا رہا ہے۔ اس اقدام کے پیچھے مقصد صاف ہے، ایران کو ایٹمی پروگرام سے مکمل طور پر دستبردار کرانا یا پھر مکمل تباہی۔ ساتھ ہی ساتھ، امریکہ کی جانب سے ایک نئی مشروط ایٹمی ڈیل کی پیشکش بھی کی گئی ہے، جس میں ایران سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ مکمل طور پر امریکی شرائط تسلیم کرے، تو امریکہ معاشی پابندیاں ہٹا سکتا ہے۔ مگر ایران کا مؤقف اب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہے، نہ ایٹمی پروگرام بند کیا جائیگا اور نہ ہی اسرائیل کیخلاف کارروائیاں روکی جائیں گی۔ اس ساری صورتحال میں چین کا ردعمل بہت زیادہ قابلِ توجہ ہے۔ چین نے نہ صرف اپنے شہریوں کو اسرائیل سے زمینی راستوں سے نکالنے کی ہدایت جاری کی بلکہ صدر شی جن پنگ نے ایک تاریخی بیان بھی دیا "دنیا امریکہ کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔" اس بیان کو عالمی سفارتی محاذ پر امریکہ کے اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ چین درحقیقت ایک پْرامن ثالث کے طور پر ابھرنا چاہتا ہے، مگر اس کا یہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ جنگ کو امریکا کی چھتری سے باہر دیکھنے پر آمادہ ہو چکا ہے۔ اسلامی دنیا کی صورتحال اس سارے قضیے میں انتہائی افسوسناک ہے۔ ایک طرف ایران اسرائیلی حملوں کی زد میں ہے، دوسری طرف مسلم ممالک کا ردعمل محض قراردادوں اور بیانات تک محدود ہے۔ 21 اسلامی ممالک نے ایک مشترکہ مذمتی قرارداد منظور کی ہے، جس میں
ایران پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے، مگر یہ قرارداد کاغذی حد تک ہی محدود ہے۔ جب ہم ان میں سے اکثر ممالک کی تجارتی وابستگی پر نظر ڈالتے ہیں تو صورتحال اور بھی شرمناک ہو جاتی ہے۔ مثلاً سعودی عرب، جو اسلامی دنیا کا "قائد" کہلاتا ہے، اس کی امریکہ کیساتھ سالانہ تجارت 120 سے 150 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ صرف 2024 میں سعودی عرب نے امریکہ سے 73.75 بلین ڈالر کی درآمدات کیں، جبکہ برآمدات تقریباً 48 بلین (ریال نہیں بلکہ) ڈالرکے قریب رہیں۔ متحدہ عرب امارات، جو حال ہی میں اسرائیل کیساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکا ہے، صرف 2024 میں اسرائیل کیساتھ 2.9 بلین ڈالر کی دو طرفہ تجارت کر چکا ہے۔ مصر اور اردن، دونوں ممالک کی اسرائیل کیساتھ باقاعدہ سفارتی اور تجارتی تعلقات موجود ہیں۔ مصر اسرائیل سے گیس اور توانائی کی فراہمی میں سب سے آگے ہے، جبکہ اردن بھی اسرائیلی مصنوعات کا بڑا خریدار ہے۔ مصر اور اردن دونوں امریکہ سے فوجی امداد اور معاشی معاونت حاصل کرتے ہیں اور ان کی پالیسی سازی براہِ راست واشنگٹن کے مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔ ان ممالک میں سے کوئی بھی عملی میدان میں ایران کی مدد کو تیار نہیں، کیونکہ ان کا معاشی مفاد اسرائیل یا امریکہ سے منسلک ہے۔ ان کی مذمتیں فقط عوامی جذبات کو تھپکنے کیلئے کافی ہیں، مگر عملی طور پر وہ اسرائیل اور امریکہ کیساتھ اپنے تجارتی معاہدے اور دفاعی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ایران اب سیاسی تنہائی کے باوجود میدان میں ڈٹا ہوا ہے، مگر یہ جنگ صرف میزائل اور ڈرونز کی نہیں، بلکہ اطلاعات، معاہدات اور عالمی پالیسیوں کی جنگ ہے۔ ایران کے خلاف ہو رہی خفیہ کارروائیوں، چاہے وہ موساد کی جانب سے ہوں یا را کی جانب سے، اس بات کا اشارہ ہیں کہ جدید جنگ اب زمینی سرحدوں کی پابند نہیں رہی اور ایران کو بھی یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ بھارت جیسے "دوست" سے عسکری تعلقات کا فائدہ نہیں بلکہ ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ یہ تمام حالات صرف ایران کیلیے خطرہ نہیں، بلکہ پاکستان کیلئے بھی ایک امتحان ہیں۔ ت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ خطے میں صرف ایک دشمن ریاست تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ اب خطے کی مجموعی فیصلہ کْن صورت حال کو متاثر کر رہا ہے۔ اسرائیل پہلے ہی پاکستان کی دفاعی تیاریوں کے خلاف خفیہ معلومات بھارت کو فراہم کر چکا ہے، پاک-بھارت جنگ میں اپنے انجینئرز اور ماہرین کو بھارت بھیج کر کھلم کھلا پاکسان پر ڈرون حملے کروا چْکا ہے اور اگر جنگ ایران سے آگے بڑھی تو پاکستان کو واضح مؤقف اپنانا ہو گا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ مسلم ممالک اپنی قراردادوں سے آگے نکلیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ اپنی تجارتی پالیسیوں، سفارتی فیصلوں اور عسکری ترجیحات کو حقیقی اسلامی اتحاد کی بنیاد پر ازسرنو تشکیل دیں۔ ورنہ ایران کے بعد اگلا ہدف کوئی اور ہو گا—شاید پاکستان، یا کوئی اور جس کی آزادی مغرب کے مفادات سے ٹکرا جائے۔ بلکہ کچھ ہفتے پہلے کے اسرائیلی بیان کے مطابق تو کنفرم طور پر پاکستان۔