بالی ووڈ کے معروف اور سینئر اداکار نصیر الدین شاہ نے اپنی پہلی شادی کے خاتمے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ جذباتی ناپختگی اور ازدواجی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر نہ سمجھ پانا ان کی غلطیوں میں شامل تھا۔
76 سالہ اداکار نے اپنی آٹو بائیوگرافی میں پہلی اہلیہ پروین مراد کے ساتھ ازدواجی زندگی، بیٹی کی پیدائش اور اس دوران پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے کئی ذاتی انکشافات کیے ہیں۔نصیر الدین شاہ نے لکھا کہ وہ اپنی پہلی اہلیہ کے حمل کے دوران ان کی جسمانی اور جذباتی تبدیلیوں کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ ان کے مطابق انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس حساس مرحلے پر ایک شوہر کی کیا ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور انہیں اپنی اہلیہ کا کس طرح ساتھ دینا چاہیے۔اداکار نے اعتراف کیا کہ حمل کے دوران پروین مراد کے رویے میں آنے والی تبدیلیوں کو وہ سمجھ نہیں سکے، جس کے باعث دونوں کے درمیان اختلافات اور جھگڑے بڑھتے گئے۔انہوں نے مزید لکھا کہ وہ شادی اور والد بننے کی ذمہ داریوں کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھے، جس کا اثر ان کے خاندانی تعلقات پر پڑا۔ نصیر الدین شاہ نے اعتراف کیا کہ بیٹی کی پیدائش کے بعد بھی وہ اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا نہ کر سکے اور آج بھی اس بات پر افسوس محسوس کرتے ہیں۔اداکار کے مطابق بیٹی کی آمد کے بعد پروین مراد کی توجہ فطری طور پر بچے کی طرف زیادہ ہوگئی، جس سے میاں بیوی کے درمیان فاصلے بڑھنے لگے۔ دوسری جانب وہ خود بھی اپنے فلمی کیریئر میں اس قدر مصروف ہوگئے کہ انہیں رشتے میں پیدا ہونے والی دوری کا احساس دیر سے ہوا۔
واضح رہے کہ نصیر الدین شاہ اور پروین مراد کی شادی 1969ء میں ہوئی تھی، تاہم تقریباً 13 سال بعد 1982ء میں دونوں الگ ہو گئے۔ اس شادی سے ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔بعد ازاں نصیر الدین شاہ نے معروف اداکارہ رتنا پاٹھک سے شادی کی۔ دونوں کی ملاقات تھیٹر کے دوران ہوئی تھی اور بعد میں یہ تعلق شادی میں تبدیل ہوگیا۔نصیر الدین شاہ نے اپنی زندگی کے مختلف تجربات کو اپنی آٹو بائیوگرافی میں بیان کیا ہے، جس میں انہوں نے نہ صرف اپنے فنی سفر بلکہ ذاتی زندگی کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر بھی کھل کر روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ انہیں ماضی کی غلطیوں کو سمجھنے اور رشتوں کی اہمیت کا احساس ہوا۔