پختونخوا میں چھت گرنے، سیلابی ریلے سے 5اموات،لاہور میں کرنٹ لگنے سے نوجوان مارا گیا
لاہور ( کرائم رپورٹر)لاہور سمیت ملک کے مختلف بالائی علاقوں میں طوفانی بارش ،آسمانی بجلی گرنے ، لینڈسلائیڈنگ اور دیگر واقعات میں کمسن 2 بچوں سمیت 10افراد جاں بحق،متعدد زخمی ہو گئے،بیشتر مقامات پر آج بھی بارش کا امکان ہے۔ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح گزشتہ روز لاہور میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی اور اس دوران شادباغ میں کھوکھر روڈ پر کرنٹ لگنے سے 22 سالہ نوجوان عدنان جاں بحق ہوگیا ۔نین سکھ کے علاقے میں گھر کی دیوار گر گئی اور 7 افراد زخمی ہوگئے۔پختونخوا میں گزشتہ روز شدید بارش ہوئی اس دوران ضلع مردان کے علاقے رستم کالو ڈھیری میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک کمرے کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں 2 سالہ محمد حسین اوراس کی ایک سالہ بہن زنیرہ جاں بحق ہو گئی جبکہ ماں اور ایک دوسری بیٹی شدید زخمی ہو گئی۔ضلع خیبرتحصیل لنڈی کوتل میں تیز بارش کے باعث مختلف مقامات پر سیلابی ریلوں میں دو گاڑیاں بہہ گئیں جس کے نتیجہ میں خاتون اور بچے سمیت 3افراد جاں بحق ہو گئے،لاشیں نکال لی گئیں۔علاوہ ازیں 12 سے زائد بچوں کو سیلابی پانی سے بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔ادھر گلگت بلتستان کے ضلع نگر میں چھلت کے علاقے بڈہ لس میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 4 مزدور جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے ۔دریں اثنا لیہ کے موضع سمرانشیب میں دریائے سندھ کی بے رحم موجیں بے قابو ہوگئیں، پانی کے تیز بہاؤ میں دو بڑے سرکاری سکول دریا برد ہوگئے۔حسن ابدال کے نواحی علاقے کوہلیہ کا پل ایک بار پھر تیز سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ دریائے چناب کے خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔دوسری طر ف لاہور میں گزشتہ روز موسلا دھار بارش کے باعث حبس کا زور ٹوٹ گیااور موسم خوشگوار ہو گیا تاہم اس دوران نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہو گیا ،کئی علاقوں میں بجلی کا ترسیلی نظام متاثر ہونے سے گھنٹوں بجلی بھی بند رہی۔