نواز شریف نے پنجاب کابینہ میں توسیع کا گرین سگنل دیدیا، 10 وزرا اور مشیروں کے اضافے کا امکان

مریم نواز   کابینہ میں توسیع کی تیاری 
 کابینہ میں شمولیت کیلئے نواز شریف اور مریم نواز اراکین سے ملاقاتوں میں نام بھی شارٹ لسٹ کر چکے ، اکثریت جنوبی پنجاب سے ہوگی، توسیع آئندہ ماہ متوقع ،مری مشاورت کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ،اتحادیوں کو آن بورڈ اور ان کی آراء کو مقدم رکھا جائے: سابق وزیر اعظم 
مری ( مانیٹرنگ ڈیسک )پنجاب کابینہ میں توسیع کی تیاری کی جا رہی ہے،مری میں شریف خاندان کی اہم بیٹھک کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، پنجاب کابینہ میں 10 وزرا اور مشیروں کے اضافے کا امکان ہے، کابینہ میں شامل ہونے والوں میں اکثریت جنوبی پنجاب سے ہوگی جبکہ پنجاب کابینہ میں توسیع آئندہ ماہ میں متوقع ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے گرین سگنل دے دیا۔نواز شریف اور مریم نواز اراکین سے ملاقاتوں میں نام بھی شارٹ لسٹ کر چکے ہیں۔واضح رہے کہ نواز شریف گزشتہ تین روز سے مری میں کشمیر پوائنٹ باغ شہیداں میں اپنی رہائشگاہ پر قیام پذیر ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف بھی مری پہنچے اور ان کی دعوت پر نواز شریف اور مریم نواز ڈونگا گلی پہنچے، جہاں یہ اہم مشاورت اور فیصلہ کیا گیا۔دوسری طرف ڈونگہ گلی میں اتوار کو ن لیگ کے قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں ملکی و سیاسی امور تفصیلی مشاورت کی گئی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پارٹی قائد کو صدر آصف زرداری سے ہونے والی ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا، پارلیمنٹ سے مجوزہ آئینی ترمیمی بل پر قانون سازی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا، نئے چیئرمین الیکشن کمیشن کے نام پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔وزیراعظم نے نواز شریف کو مجوزہ آئینی پیکیج کی بعض شقوں پر پیپلز پارٹی کی طرف سے تحفظات سمیت وفاق اور کے پی میں مولانا فضل الرحمن کیساتھ ورکنگ ریلیشن شپ کیلیے رابطوں ملاقاتوں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے پارٹی قائد کو صوبے میں سیلاب کی تباہ کاریوں ،امن وامان کے قیام اور مہنگائی کے خاتمے پر اقدامات سے آگاہ کیا۔اس موقع پر قائد نواز شریف نے وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سیاسی انتظامی و آئینی معاملات میں اتحادیوں کو آن بورڈ اور ان کی آراء کو مقدم رکھا جائے، سیلاب سے متاثرہ غریب عوام کے جانی مالی نقصانات کا سروے کرا کے انہیں معقول معاوضہ دیا جائے اور آئندہ سال قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے ایک جامع و ٹھوس لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔