خاموش آندھی سے پہلے کا شور

ارشد مہدی جعفری
دنیا کا سکون کبھی مستقل نہیں رہا۔ طاقت کی بھوک، بقاء￿  کی دوڑ، اور برتری کے جنون نے ہمیشہ نئی جنگوں کو جنم دیا۔ مگر کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب گولی نہیں چلتی، لیکن بارود کی بو سانسوں میں محسوس ہونے لگتی ہے۔ جب توپ نہیں گرجتی، مگر فضائیں کانپنے لگتی ہیں۔ آج شاید ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں، جہاں بظاہر سکوت ہے، مگر تہوں میں ایک بھاری ارتعاش چھپا ہوا ہے۔
ایشیا کا نقشہ رفتہ رفتہ ایک نئے عسکری تنازعے کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ صرف معمول کی اسلحہ سازی نہیں، بلکہ وہ تیز سانس ہے جو طوفان سے پہلے لی جاتی ہے۔ ایک طرف بھارت ہے جو امریکی منظوری کے ساتھ روسی ساختہ جنگی طیاروں کی مرمت اور جدید کاری میں مصروف ہو چکا ہے۔ اس نے ایک امریکی دفاعی کمپنی سے شراکت داری کر کے MiG-29 اور جیگوار جیسے پرانے طیاروں کو بغیر روسی انحصار کے دوبارہ زندہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ دوسری جانب چین ہے، جو اپنے دفاعی نظام میں مسلسل وسعت لا رہا ہے، HQ-29 جیسے خلائی دفاعی نظام سے لے کر سالانہ 250 سے زائد لڑاکا طیاروں کی پیداوار تک۔ چین کی نئی فیکٹریاں اب J-35 اور J-50 جیسے جدید طیاروں کی تیاری شروع کر چکی ہیں، جو اگلی دہائی میں خطے کے فضائی توازن کو مکمل طور پر بدل سکتے ہیں۔
ایران خاموشی سے روس اور چین سے جدید عسکری مدد وصول کر رہا ہے۔ ایک روسی طیارہ تہران میں اہم فوجی سازوسامان اتار چکا ہے، اور مغربی انٹیلی جنس کا ماننا ہے کہ Su-35S جیسے حساس طیارے ایران کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ چین کی جانب سے بھی ایران کو تکنیکی امداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خطے میں اس اسلحہ جاتی سرگرمی کا ایک مقصد ہے، اور وہ ہے ایک بڑی ممکنہ جنگ کی تیاری۔
بھارت اپنے دفاعی پروگرام میں صرف اپگریڈ تک محدود نہیں رہا بلکہ مقامی میزائلوں کی آزمائش بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ Su-30MKI سے فائر کیے گئے جدید آسٹرا میزائل کے تجربات بھارت کے دفاعی خود انحصاری پروگرام کی علامت ہیں، جسے وہ "آتم نربھر بھارت" کہتا ہے۔ یہ تمام تیاری اس وقت پسِ پردہ جاری ہے جب بظاہر جنوبی ایشیا میں کوئی کھلی جنگ نہیں ہو رہی۔ لیکن تعداد کچھ اور کہتی ہے۔ پچھلے تیس برسوں میں بھارت نے 534 جنگی جہاز اور 152 پائلٹ حادثات میں کھو دیے، اور صرف 2025 کی حالیہ جنگ میں اس کے جدید ترین طیارے جیسے رافیل، Su-30MKI اور ہیرون ڈرونز تباہ ہو چکے ہیں۔
اس کے برعکس پاکستان کی فضائیہ خاموشی سے لیکن مضبوطی سے اپنے پانچویں نسل کے طیارہ سازی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے سفر پر گامزن ہے۔ پروجیکٹ "عزم" اور PFX جیسے منصوبے اب صرف خاکے نہیں، بلکہ عملی خاکوں یا ابتدائی نمونوں کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ چین کے J-35A، ترکی کے TAI KAAN، اور خود تیار کردہ PFX-Alpha جیسے طیارے آنے والی دہائی میں پاکستان کو ایک نئی تکنیکی سطح پر لے جانے والے ہیں۔ یہ صرف عسکری تبدیلی نہیں، بلکہ قومی خودکفالت کی طرف بڑھتا ہوا ایک شعوری قدم ہے۔
مگر ان تمام جنگی تیاریوں کے پیچھے جو سایہ ابھر رہا ہے، وہ محض خطے کے اندرونی تضادات کا نہیں، بلکہ عالمی سیاسی جوڑ توڑ کا نتیجہ ہے۔ اسرائیلی صدر ایک عرصے سے اپنے بیانات میں مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس کی بقا کو سب سے بڑا خطرہ ایران اور پاکستان سے ہے۔ ایران تو اسرائیل کے ساتھ عملی محاذ پر آزمایا جا چکا، مگر اب نیا ہدف پاکستان بنتا جا رہا ہے۔ اسرائیل نے امریکہ کی پشت پناہی میں بھارت کے ساتھ عسکری، انٹیلیجنس اور ٹیکنالوجی کے اشتراک کو وسیع کر دیا ہے۔ یہ کوئی خفیہ بات نہیں کہ خطے میں اسرائیل کا نیا وار بھارت کے ذریعے پاکستان پر کروانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ حالیہ عرصے میں بھارت کو عسکری لحاظ سے مضبوط کرنا اور چین، ایران اور پاکستان کے گرد ایک دفاعی گھیرا تنگ کرنا اسی منصوبے کی کڑی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حالات کا فطری توازن خود ایک نئی صف بندی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ چین اور بنگلہ دیش، دونوں اب غیر محسوس انداز میں پاکستان کے مفادات کے قریب آ رہے ہیں۔ اقتصادی، دفاعی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر یہ ہم آہنگی آئندہ برسوں میں ایک باقاعدہ اسٹریٹجک/دفاعی اتحاد میں بدل سکتی ہے۔ بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے حالیہ بیان میں اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ جنوبی ایشیا کی خاموش فضائیں بہت جلد ایک نئے اتحاد یا ایک نئی جنگ کا شور سن سکتی ہیں۔
ایسے میں پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ یہی ہے کہ وہ خواب سے جاگے۔ اگرچہ دشمن ابھی نظر نہیں آ رہا، لیکن اس کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی ہے۔ ہمارے پاس نہ وقت کی فراوانی ہے، نہ سستی کی گنجائش۔ ہمیں صرف دفاعی تیاری پر نہیں بلکہ قومی یکجہتی، سیاسی استحکام، اور معاشی خودمختاری پر بھی توجہ دینا ہو گی۔ کیونکہ اگلی جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں، فیصلوں، تیاریوں اور عقل و حکمت سے جیتی جائے گی۔