ملک محمد اسحاق
اس صبح دبئی کا آسمان معمول سے مختلف تھا۔گہرے سیاہ بادل اس طرح پھیلے ہوئے تھے کہ سورج کی روشنی زمین تک پہنچنے سے رک گئی۔
یہ منظر اس شہر میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں روشنی جیسے روزمرہ کی عادت ہو۔ہوا خوشگوار تھی، موسم میں ٹھہراؤ تھا، اور فضا میں ایک غیر محسوس سا سوال معلق تھا۔میں نے طویل چہل قدمی کا فیصلہ کیا—محض موسم سے لطف لینے کے لیے نہیں، بلکہ اس خاموش منظر کو سمجھنے کے لیے اور پھر خیال آسمان سے اتر کر زندگی تک آ پہنچا۔
انسانی زندگی بھی اکثر اسی آسمان کی طرح ہوتی ہے۔انسان میں صلاحیت ہوتی ہے، محنت ہوتی ہے، ذہانت ہوتی ہے، قیادت کا جوہر ہوتا ہے مگر حالات بادل بن کر چھا جاتے ہیں۔وسائل کی کمی، مالی دباؤ، سماجی رکاوٹیں، نظام کی سختی، یا اچانک آنے والے صدمات—
یہ سب وہ بادل ہیں جو سورج کو ختم نہیں کرتے مگر اس کی روشنی کو زمین تک پہنچنے سے روک دیتے ہیں۔یہ بات سمجھنا ضروری ہے صلاحیت کا نظر نہ آنا، صلاحیت کے نہ ہونے کی دلیل نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ بے شمار باصلاحیت انسان محض اس لیے پہچانے نہ جا سکے کہ ان کے حالات سازگار نہ تھے۔
جب میں باغ میں داخل ہوا تو پرندے چہچہا رہے تھے۔درخت ہوا کے ساتھ جھوم رہے تھے، جیسے رقص میں ہوں۔
نہ کسی کو بادلوں کی فکر تھی، نہ سورج کی غیر حاضری کا شکوہ۔فطرت گھبراتی نہیں‘وہ جانتی ہے کہ ہر کیفیت عارضی ہے۔یہی سبق صوفیانہ فکر ہمیں دیتی ہے۔مولانا رومی کہتے ہیں:’’جہاں زخم ہوتا ہے، وہیں سے روشنی اندر آتی ہے۔‘‘بدھ مت میں ناپائیداری کو حقیقت کا اصول مانا گیا ہے۔ہندو فلسفے میں مایا (وہم) کو عارضی پردہ کہا گیا ہے، حتمی سچ نہیں۔عیسائیت میں کہا گیا کہ اندھیرا روشنی پر غالب نہیں آ سکتا۔
اسلام میں واضح اعلان ہے کہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے—ہمیشہ۔یہودیت صبر اور استقامت کو عبادت سمجھتی ہے۔کنفیوشس نے کردار کو قسمت سے بلند رکھا۔رواقی فلسفہ کہتا ہے اختیار حالات میں نہیں، رویّے میں ہے۔افریقی فلسفہ ‘‘اوبنٹو’’ انسان کو انسان سے جوڑتا ہے۔
راستے مختلف ہیں، نتیجہ ایک۔بارش: اندھیرا نہیں، تبدیلی‘میں بارش کا منتظر تھا۔بارش اندھیرا نہیں ہوتی—وہ زندگی کا اعلان ہوتی ہے۔
بارش بنجر زمین کو زرخیز کرتی ہے،سوئے ہوئے بیج جگاتی ہے،اور تھکی ہوئی زمین کو نئی سانس دیتی ہے۔دنیا کے ساتوں براعظم اس حقیقت کے گواہ ہیں:افریقہ نے کمی میں قدر سیکھی۔ایشیا نے مون سون میں نظم اور وقت۔یورپ نے طویل سردیوں میں برداشت۔شمالی امریکا نے طوفانوں میں نئی شروعات۔جنوبی امریکا نے بارش میں فراوانی۔آسٹریلیا نے توازن۔انٹارکٹیکا نے خاموشی میں عاجزی۔بارش کبھی وضاحت نہیں دیتی،مگر اثر چھوڑ جاتی ہے۔سورج اور بادلوں کی خاموش جنگ‘پھر میں نے آسمان پر ایک خاموش کشمکش دیکھی سورج پیچھے نہیں ہٹا۔وہ نہ لڑا، نہ شور کیا—بس موجود رہا۔بادل کبھی گھنے ہوتے، کبھی بکھرتے۔کبھی روشنی آتی، کبھی چھپ جاتی۔یہی زندگی ہے۔کامیابی اچانک نہیں آتی۔واضح راستہ اکثر دھند میں بنتا ہے۔اور پھر، بغیر کسی اعلان کے،بادل ہلکے پڑنے لگے۔سورج دوبارہ چمک اٹھا—نہ فاتح بن کر، بلکہ اپنے فطری منصب پر۔
یہ محض شاعری نہیں۔یہ نفسیات، تاریخ اور سائنس کا مشترکہ اصول ہے۔دباؤ سے ستارے بنتے ہیں۔مزاحمت سے طاقت۔تاخیر سے گہرائی۔بادل رکاوٹ ہیں،زندگی سورج ہے۔اگر انسان حوصلہ غرور کے بغیر،عزم تلخی کے بغیر،اور ثابت قدمی مایوسی کے بغیر رکھے تو رکاوٹیں دو ہی کام کرتی ہیں:یا تو ختم ہو جاتی ہیں،یا پھر بارش بن کر زندگی کو سیراب کرتی ہیں۔
انسان کے لیے پیغام
زندگی کو فتح نہیں کرنا،زندگی کو سمجھنا ہے۔مقصد کے پیچھے ڈٹ کر کھڑے رہیے۔خواب کا تعاقب وقار کے ساتھ کیجیے۔بادلوں سے نفرت نہ کیجیے۔کیونکہ اندھیرا کبھی مستقل نہیں ہوتا—نہ قدرت میں،نہ تاریخ میں،نہ سچے انسان کی زندگی میں۔ایک دن کوئی آپ کے سائے میں بیٹھے گا‘اسے معلوم بھی نہیں ہوگا آپ کن طوفانوں سے گزرے تھے وہ صرف یہ جانے گا آپ باقی رہے۔
بادل آپ کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کرتے‘وہ صرف یہ طے کرتے ہیں آپ کی روشنی کتنی مضبوط ہونی چاہیے۔