عالمی سطح پر سونے کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

عالمی سطح پر سونے کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سیاسی بے یقینی اور معاشی خدشات کے باعث سونے کی قیمت نے نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

 عالمی منڈی میں سونے کی فی اونس قیمت 4,800 ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ماہرین کے مطابق، محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven) کی بڑھتی ہوئی طلب اور امریکی ڈالر کی کمزوری نے سونے کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 4,821 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ کاروبار کے دوران یہ 4,843 ڈالر کی ریکارڈ سطح کو بھی چھو گئی۔ اسی طرح فروری میں ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 1 فیصد اضافے کے بعد 4,813 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جیسے کہ یورپی ممالک پر ممکنہ ٹیرفز، گرین لینڈ پر کنٹرول کے سخت مؤقف اور نیٹو اتحادیوں پر تنقید نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر کہا تھا کہ ’’واپسی کا کوئی راستہ نہیں‘‘ اور طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی رد نہیں کیا، جس سے عالمی منڈیوں میں بے چینی پھیل گئی۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ نیٹو کے ساتھ مل کر ایسا حل نکالا جائے گا جس سے تمام فریق خوش ہوں، تاہم یورپی رہنماؤں نے سخت ردعمل دیا، اور فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے واضح کیا کہ یورپ دباؤ یا دھمکیوں کے آگے نہیں جھکے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کار امریکی ڈالر اور طویل مدتی بانڈز سے نکل کر سونے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ڈالر یورو اور سوئس فرانک کے مقابلے میں تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر رہا، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مسلسل تیسرے روز بھی مندی دیکھی گئی۔