ماضی کی غلطیوں کو بھلا کر حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے راناثناء اللہ

ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد سمیت انصاف کی فراہمی اور دیگر مسائل کے حل کیلئے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر اپنا  موثر کردار ادا کریں
 جو آپ کا موقف 8فروری کے بارے میں ہے کیا یہ  ملک میں پہلی بار ہوا ہے‘ اس سے پہلے 2018کے انتخابات میں کیا کچھ ہوا ‘ ہمیں بیٹھ کر سسٹم کو بہتر کرنا چاہیے
اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر راناثناء اللہ نے کہا ہے  ماضی کی غلطیوں کو بلا کر مستقبل کی بہتری کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے‘ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد سمیت انصاف کی فراہمی اور فیگر مسائل کے حل کیلئے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈران اپنا کردار ادا کریں۔منگل کو ایوان بالا میں اپوزیشن لیڈر کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا  امید ہے کہ اپوزیشن لیڈر اس ایوان کو آگے بڑھانے میں اپنا موثر کردار ادا کریں گے‘ اپوزیشن لیڈر نے بہتر الفاظ کا چنائو کیا ہے جس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس امید کا اظہار کرتا ہوں کہ اسی لہجے اور اسلوب کو آئندہ بھی برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی نظرئیے کے حوالے سے جو بات کی ہے اس پر تنقید نہیں کرونگا تاکہ ماحول کو برقرار رکھا جائے انہوں نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہاکہ 8 فروری کو ووٹ کا احترام نہیں ہوا اور اس وجہ سے معاملات خراب ہیں میں اس کا جواب نہیں دیتا ہوں تاہم یہ تجویز دیتا ہوں کہ جو آپ کا موقف 8فروری کے بارے میں ہے کیا یہ اس ملک میں پہلی دفعہ ہوا ہے اس پہلے 2018کے انتخابات میں کیا کچھ ہوا ہے اور اس سے پہلے انتخابات میں کیا کچھ ہوا ہے ااس سے پہلے جنوبی پنجاب محاذ بنا تھا مگر وہ دولے شاہ کے چوہے ثابت ہوئے اور انتخابات میں آرٹی ایس بٹھایا گیا اور اس وقت اپوزیشن کا بھی موقف تھا کہ 45نشستوں پر انتخاب کو تبدیل کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ اگر ہم انہی باتوں پر کھڑے رہے اور اس سے آگے نہ بڑھے تو پھر 2018پر بھی بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے اپوزیشن اراکین کو کہا کہ آئیں ہم ماضی کو بھول کر اس بات پر متفق ہوں کہ پاکستان میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کے حوالے سے جو معاملات ہیں اس کو بہتر بنائیں تاکہ ان الزامات کا خاتمہ ہوسکے انہوں نے کہاکہ اگر ہم اس پر متفق ہوجائیں تو ہمیں بیٹھ کر سسٹم کو بہتر کرنا چاہیے انہوں نے کہاکہ ہمیں پہلے پاکستان کی بات کرنی چاہیے ہم سب محب وطن ہیں سب کے گلے شکوے ہیں اس پر بیٹھ کر بات کی جاسکتی ہے اور درمیانی راستہ نکل سکتا ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت جو بھی صورتحال اور مشکلات ہیں اس کا راستہ اس پارلیمنٹ سے ہی نکل سکتا ہے اور یہ راستہ تب نکل سکتا ہے جب بیٹھ کر بات کی جائے