ججز کے تبادلے چیف جسٹس کی مشاورت سے ہوئے، رجسٹرار سپریم کورٹ کا جواب

ججز کے تبادلے چیف جسٹس کی مشاورت سے ہوئے، رجسٹرار سپریم کورٹ کا جواب

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں ججز کی ٹرانسفر اور سینیارٹی کے حوالے سے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

 سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے عدالت میں اپنا جواب جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ججز کی منتقلی کے عمل میں چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت شامل تھی۔رجسٹرار کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 200(1) کے مطابق صدرِ پاکستان کسی ہائی کورٹ کے جج کو اس کی رضامندی، چیف جسٹس آف پاکستان اور متعلقہ دونوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے مشاورت کے بعد کسی دوسری ہائی کورٹ میں منتقل کر سکتے ہیں۔مزید کہا گیا ہے کہ اسی آئینی طریقہ کار کے تحت وزارت قانون و انصاف نے 1 فروری 2025 کو ایک خط کے ذریعے معزز چیف جسٹس آف پاکستان سے مشاورت کی، جس کے جواب میں چیف جسٹس آف پاکستان نے اسی روز یعنی 1 فروری کو مشاورت فراہم کی۔رجسٹرار نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان کا یہ جواب عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے، کیونکہ یہ مشاورت آئینی تقاضوں کے مطابق مکمل کی گئی تھی۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ججز کی سینیارٹی اور تبادلوں پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے، جس کے باعث یہ کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔