مشال یوسفزئی کی اڈیالہ جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست

مشال یوسفزئی کی اڈیالہ جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بشریٰ بی بی کی فوکل پرسن مشال یوسفزئی نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔

درخواست کے اہم نکات:
مشال یوسفزئی کا مؤقف:

وہ بشریٰ بی بی کی فوکل پرسن ہیں، لیکن انہیں جیل میں داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی۔سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اپنی مرضی کی ریاست قائم کر رکھی ہے اور عدالتی احکامات پر عمل نہیں کر رہا۔تین سماعتوں سے ان کی جیل میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
جیل مینوئل کی خلاف ورزی:

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل جیل کے ضوابط اور عدالتی احکامات کو نظرانداز کر رہے ہیں۔بشریٰ بی بی کا سامان، جو وہ گرفتاری کے وقت ساتھ لائیں تھیں، جیل حکام نے ضبط کر لیا ہے۔
بشریٰ بی بی کی گرفتاری:
مشال یوسفزئی نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی نے بہادری سے گرفتاری دی تھی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق جیل پہنچی تھیں، لیکن جیل حکام کی جانب سے نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

قانونی جنگ کا عزم:
مشال یوسفزئی نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ہر قانونی محاذ پر اس ناانصافی کے خلاف جنگ لڑیں گی اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

اگلے اقدامات:
اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست کے بعد عدالت کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کا امکان ہے، اور جیل حکام کو وضاحت پیش کرنے کے لیے طلب کیا جا سکتا ہے۔