بھارتی اداکار سیف علی خان اسپتال سے ڈسچارج، ڈاکٹروں کا مکمل آرام کا مشورہ

بھارتی اداکار سیف علی خان اسپتال سے ڈسچارج، ڈاکٹروں کا مکمل آرام کا مشورہ

مشہور بھارتی اداکار سیف علی خان، جنہیں باندرہ میں اپنے گھر پر چوری کی واردات کے دوران چاقو کے حملے میں شدید زخمی کیا گیا تھا، کو 6 دن کے علاج کے بعد ممبئی کے لیلاوتی اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

 ڈاکٹروں نے انہیں مکمل بیڈ ریسٹ کا مشورہ دیا ہے تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ انفیکشن سے بچ سکیں اور جلد صحت یاب ہو سکیں۔

حملے کی تفصیلات اور اسپتال میں علاج
سیف علی خان پر حملہ اس وقت ہوا جب انہوں نے چور کو روکنے کی کوشش کی۔ حملے میں انہیں ریڑھ کی ہڈی کے قریب چوٹ آئی، جو صرف 2 ملی میٹر کے فاصلے پر لگی اور ان کی ریڑھ کی ہڈی کے سیال کو نقصان پہنچایا۔ یہ چوٹ انتہائی حساس تھی، جسے درست کرنے کے لیے فوری سرجری کی ضرورت پڑی۔ علاوہ ازیں، بازو اور گردن پر گہرے زخموں کی وجہ سے اداکار کو پلاسٹک سرجری بھی کرانی پڑی۔

اسپتال سے ڈسچارج کے وقت کا منظر
اسپتال سے ڈسچارج کے وقت سیف علی خان کی والدہ، مشہور اداکارہ شرمیلا ٹیگور، اور ان کی اہلیہ، اداکارہ کرینہ کپور، ان کے ہمراہ تھیں۔ اہل خانہ نے میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا اور سیف علی خان کو گھر لے جانے پر توجہ مرکوز رکھی۔

حملہ آور کی گرفتاری
ممبئی پولیس نے حملے کے الزام میں بنگلہ دیشی شہری شریف الاسلام شہزاد کو گرفتار کیا ہے، جو غیر قانونی طور پر بھارت میں مقیم تھا اور بیجوئے داس کے نام سے رہائش پذیر تھا۔ پولیس کے مطابق شریف الاسلام کا مقصد چوری کرنا تھا، اور گرفتاری کے بعد اس نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔

عوامی ردعمل
سیف علی خان کے مداحوں نے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں کی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس حملے کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ لوگوں نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کی موجودگی اور بڑھتے ہوئے جرائم پر سخت اقدامات کیے جائیں۔یہ واقعہ اداکار کی زندگی کے ایک مشکل لمحے کی نمائندگی کرتا ہے، لیکن ان کی صحت یابی کی خبروں نے ان کے مداحوں اور فیملی کو سکون فراہم کیا ہے۔