ماورائے عدالت کاروائیوں کا الزام مسترد کرتے ہیں :ترجمان سی سی ڈی

ایچ آر سی پی نے سی سی ڈی پر بغیر ثبوت الزامات لگائے ہیں جو ہرگز درست نہیں
سی سی ڈی کا کوئی بھی افسر یا اہلکار قانون سے بالاتر نہیں، سنگین جرائم میں کمی ہوئی 
لاہور (کرائم رپورٹر)سی سی ڈی ماورائے عدالت کاروائیوں کا الزام مسترد کرتی ہے ، ایچ آر سی پی نے سی سی ڈی پر بغیر ثبوت الزامات لگائے ہیں جو ہرگز درست نہیں، سی سی ڈی ایک خصوصی لا انفورسمنٹ یونٹ ہے جو سنگین اور منظم جرائم کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے، سی سی ڈی آئین پاکستان، پولیس آرڈر 2002 اور تمام قابل اطلاق فوجداری قوانین پر سختی سے عمل پیرا ہیاور طاقت کے صرف قانونی استعمال پر یقین رکھتا ہے ان خیالات کا اظہار ترجمان سی سی ڈی نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے خلاف ماورائے عدالت کاروائیوں کے الزامات کا جواب دینے ہوئے کیا۔ ترجمان نے کہا کہ پولیس مقابلوں میں مسلح مزاحمت اور جان کو خطرات لاحق ہوتے ہیں اور مشکل سیکیورٹی صورتحال میں جرائم پیشہ افراد اور گروہ بے لگام ہو چکے تھے اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف جدید خود کار ہتھیاراستعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار سی سی ڈی افسران اور جوان بہادری سے ان خطرناک جرائم پیشہ افراد کا مقابلہ کرتے ہیں اور جہاں ضرورت ہو اپنا حق دفاع استعمال کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ سی سی ڈی میں خود احتسابی کا مضبوط میکانزم موجود ہے اور اختیارات کا غلط استعمال ناقابل قبول ہے اور سی سی ڈی میں پیشہ ورانہ بددیانتی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر سخت کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے انھوں نے کہا کہ سی سی ڈی کا کوئی بھی افسر یا اہلکار قانون سے بالاتر نہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ سی سی ڈی کی کوششوں سے پنجاب میں سنگین اور منظم جرائم کی شرح میں 80 فیصد تک واضح کمی ائی ہے۔ سی سی ڈی کے قیام سے ابتک رابری میں 78 فیصد اور قتل کی وارداتیں 39 فیصد کمی ہوئی ہیں۔ سی سی ڈی نے سینکڑوں شہریوں کو قتل ہونے سے بچایا۔ گھروں میں ڈکیتی کے جرائم میں 80 فیصد کمی ہوئی ہے اور سی سی ڈی کی بدولت پنجاب میں موٹر سائیکل چوری کی شرح میں 69 فیصد اور گاڑی چھننے کی وارداتوں میں 50 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ سی سی ڈی کے اقدامات کی بدولت ڈکیتی کے دوران ریپ کے واقعات ختم ہو چکے ہیں اور پنجاب سے ڈالہ کلچر کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف لڑتے ہوئے رواں سال 19پولیس اہلکار شہید اور 167 افسر اورجوان شدید زخمی ہو ئے ہیں اسی طرح جرائم پیشہ افراد سے مقابلہ میں سی سی ڈی کے متعدد جوان شہید اور 92 افسر اور اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ سی سی ڈی نے موثر حکمت عملی سے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی کمر توڑ کرعوام کا اعتماد بحال کیا ہے ترجمان نے مزید کہا کہ سی سی ڈی میں مثبت تنقید اور نیک نیتی سے دی گئی سفارشات کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ سخت احتساب اور جرات مندانہ کاروائیاں امن کی مضبوط بنیاد ہیں۔ سی سی ڈی افسران اور جوان قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دیانتداری اور بہادری سے جرائم کے خاتمے کے لیے جدوجھد جاری رکھیں گے۔