عمران خان فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے: وزیر دفاع

عمران خان فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے: وزیر دفاع

ویب ڈیسک: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان فوج کو اپنا ذیلی ادارہ بنانا چاہتے تھے، اور ان کی اقتدار سے محرومی کے بعد پی ٹی آئی اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔

پاک-برطانیہ تعلقات اور آرمی چیف کا دورہ
انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اس وقت برطانیہ کے دورے پر ہیں، جہاں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سفارتی، عسکری اور معاشی تعلقات پر بات چیت ہو رہی ہے۔ ان کے بقول، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مثالی ہیں۔

عمران خان اور فوج کے تعلقات پر تبصرہ
خواجہ آصف کے مطابق، عمران خان نے آرمی چیف کو قوم کا باپ قرار دیا تھا، لیکن بعد میں اسی کے خلاف بدزبانی شروع کر دی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان، فیض حمید کو آرمی چیف بنانا چاہتے تھے تاکہ فوج ان کی حمایت کا ذیلی ادارہ بن جائے۔9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ مذموم مقاصد کے تحت کیے گئے۔
پی ٹی آئی پر معیشت کو نقصان پہنچانے کا الزام
وزیر دفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی پروپیگنڈے کے ذریعے معیشت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اور ان کے ساتھی امریکا میں بے شمار دولت خرچ کر رہے ہیں، جسے وہ اپنی جیب میں ڈال رہے ہیں یا لابیوں پر خرچ کر رہے ہیں۔"یہ تین تین، چار چار خط لکھ رہے ہیں، پاؤں پکڑ رہے ہیں، منتیں کر رہے ہیں، لیکن دوسری طرف کارروائیاں کر رہے ہیں۔"
عمران خان اور خیبر پختونخوا حکومت
انہوں نے کہا کہ عمران خان جیل میں بیٹھ کر خط پر خط لکھ رہے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کہہ رہے ہیں کہ ہمارے 99 فیصد مطالبات تسلیم ہو چکے ہیں۔
لیکن پاکستانی عوام باشعور ہیں اور سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔
ملکی حالات اور حکومت کی کارکردگی
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ ملک کے حالات آہستہ آہستہ بہتر ہو رہے ہیں، معیشت مستحکم ہو رہی ہے، اور حکومت کامیابی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔
"اقتدار کا مالک اللہ ہے، اور اس کے بعد اس کی مخلوق ہے۔"انہوں نے کہا کہ عمران خان جو زبان استعمال کر رہے ہیں، وہ ملک و قوم کی توہین کے مترادف ہے، لیکن اس سے پاکستان کی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر نقصان نہیں پہنچے گا۔
ماضی کے سیاسی اختلافات اور عمران خان کی پالیسی
خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات رہے، لیکن کبھی ملک دشمنی کی سیاست نہیں کی گئی۔"عمران خان نے جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ہے، اور شہدا کی توہین کے مترادف ہے۔"
پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا
انہوں نے کہا کہ فوج ملک کی سالمیت کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہی ہے، لیکن دوسری طرف پی ٹی آئی کے لوگ دوسرے ممالک میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بدترین پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔"یہ سیاست ایک ذات کے گرد گھوم رہی ہے، اور ان کے لیے ملک اور اس کے اداروں کی کوئی حیثیت نہیں۔"انہوں نے عدلیہ کے حوالے سے کہا کہ "پی ٹی آئی نے عدلیہ کو جیب میں ڈال رکھا تھا"، لیکن اب عدلیہ آزاد ہو چکی ہے، اور اس وجہ سے انہیں تکلیف ہو رہی ہے۔
عمران خان اور پاکستان کے ساتھ تعلق پر سوالیہ نشان
خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کا رشتہ اقتدار، حرام کی دولت، چوری چکاری اور رشوت سے ہو سکتا ہے، لیکن ملک کی مٹی سے نہیں۔"یہ انتشار کی سیاست ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گی۔"خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ چند ماہ یا سال میں تمام حالات بہتر ہو جائیں گے اور عمران خان کی انتشار کی سیاست ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔