بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم کی بھانجی ٹیولپ صدیق کے خلاف کرپشن کیس

بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم کی بھانجی ٹیولپ صدیق کے خلاف کرپشن کیس

بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی بھانجی اور برطانیہ کی وزیر انسداد بدعنوانی، ٹیولپ صدیق، کے خلاف کرپشن کا مقدمہ سامنے آیا ہے۔

 برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ٹیولپ صدیق نے 2013 میں بنگلا دیش اور روس کے درمیان ایک معاہدہ کروایا تھا، جس کے نتیجے میں بنگلا دیش میں نیوکلئیر پاور پلانٹ کی قیمت میں اضافہ ہوا۔ اس معاہدے کو بنگلا دیش میں کرپشن کے الزامات میں شامل کیا گیا ہے، اور ٹیولپ صدیق کے خاندان پر 3.9 ارب پاونڈز کی خرد برد کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ٹیولپ صدیق کے قریبی ذرائع نے ان الزامات کو جھوٹا اور سیاسی قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ الزامات ان کی آنٹی شیخ حسینہ واجد کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ الزامات مکمل طور پر سیاسی ہیں اور ان کا مقصد ٹیولپ صدیق کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔اس کے علاوہ، بنگلا دیش میں حالیہ برسوں میں پرتشدد مظاہروں کے دوران، شیخ حسینہ واجد ملک چھوڑ کر بھارت فرار ہوگئی تھیں، اور اب بنگلا دیش کی نئی حکومت ان کے خاندان کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کر رہی ہے، جس میں ٹیولپ صدیق کا نام بھی شامل ہے۔