بنگلا دیش کی سابق وزیرِ اعظم اور بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی چیئرپرسن، خالدہ ضیا (Begum Khaleda Zia) نے 30 دسمبر 2025 کو صبح تقریباً 6 بجے طویل علالت کے بعد 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہے۔ پارٹی کی جانب سے ان کے انتقال کی باضابطہ تصدیق بھی جاری کی گئی ہے۔
انتقال کی اہم تفصیلات
خالدہ ضیا ڈھاکا کے ایور کیئر اسپتال میں زیرِ علاج تھیں جہاں وہ کئی عرصے سے کئی سنگین طبی مسائل جیسے جگر کی گردن (cirrhosis)، ذیابیطس، دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تھیں۔ پارٹی نے بیان میں کہا کہ وہ صبح 6 بجے انتقال کر گئیں، چند لمحے بعد فجر کی نماز ادا ہوئی تھی۔
ان کی سیاسی خدمات اور مقام
خالدہ ضیا بنگلا دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم تھیں اور BNP کی طویل عرصہ تک چیئرپرسن رہیں۔ انہوں نے 1991 سے 1996 اور پھر 2001 سے 2006 تک بطور وزیراعظم خدمات انجام دیں، اور ان کا شمار دنیا کی نمایاں مسلم خواتین لیڈروں میں ہوتا ہے۔ ان کا طویل سیاسی سفر مسلم دنیا میں خواتین کی قیادت کی ایک علامت رہا، بے نظیر بھٹو کے بعد وہ دوسری خاتون تھیں جنہوں نے جمہوری طور پر منتخب حکومت کی قیادت کی۔
چیلنجز اور سیاسی مقابلہ
خالدہ ضیا کی سیاسی زندگی میں کرپشن کے الزامات رہے، جنہیں ان کے حمایتی سیاسی انتقام قرار دیتے رہے۔ ان کا شیخ حسینہ واجد کے ساتھ طویل اور شدید سیاسی رقابت بھی رہی، جس نے بنگلا دیش کی سیاست کو دہائیوں تک متاثر کیا۔
خاندان اور آئندہ سیاسی منظرنامہ
انہوں نے سابق صدر ضیاء الرحمان سے شادی کی تھی، جو 1981 میں ایک انقلاب کے دوران قتل ہو گئے تھے۔ان کے بیٹے طارق رحمان، جو کئی سال جلاوطنی میں رہے، حال ہی میں وطن واپس آئے تھے اور آئندہ انتخابات میں اہم سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے تیار تھے۔ یہ خبر بنگلا دیش اور جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے، کیونکہ خالدہ ضیا کی سیاسی شمولیت نے وہاں کی سیاست اور خواتین کی قیادت کے منظرنامے کو گہرائی سے متاثر کیا۔