ڈھاکا: بنگلا دیش کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو کرپشن کیس میں بری کر دیا ہے، اور ان کے ساتھ ان کے بیٹے طارق رحمان اور دیگر افراد کو بھی بری کر دیا گیا ہے۔
اہم نکات:
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے 2018 میں ہائی کورٹ کی طرف سے سنائی گئی جیل کی سزاؤں کو کالعدم قرار دیا۔خالدہ ضیا اور ان کے بیٹے پر 2001 سے 2006 کے دوران غیر ملکی عطیات میں 1 لاکھ 73 ہزار ڈالر چوری کرنے کا الزام تھا۔پچھلے سال نومبر میں 79 سالہ خالدہ ضیا کو بدعنوانی کے ایک اور مقدمے میں بری کر دیا گیا تھا، جس میں ان پر 2005 میں ایک ٹرسٹ سے 31.5 ملین ٹکا کے غلط استعمال کا الزام تھا۔خالدہ ضیا کے اس فیصلے سے ان کی قانونی مشکلات میں کمی آئی ہے، اور یہ فیصلہ بنگلا دیش میں ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔