لوگوں کو اداروں پر یقین نہیں ریاست حکومت گرانے اور لانے میں مصروف ہےسپریم کورٹ

 یہ ادارہ بھی اتنا سچ بولتا ہے جتنا ہمارا معاشرہ، چالیس سال بعد منتخب وزیراعظم کے قتل کا اعتراف کیا گیا، وزیراعظم کے قتل سے بڑا جرم کیا ہوسکتا ہے، کسی کو ذمہ دار قرار دے کر سزا دی جانی چاہیے تھی:جسٹس اطہر من اللہ

 ادارے سیاسی مخالفین کے پیچھے پڑے ہیں، جب تک ریاستی ادارے پولیٹیکل انجنیئرنگ میں ہوں گے یہی حال ہوگا، آئین پر عمل ہوتا تو یہ حالات نہ ہوتے :قتل کے ملزم کی درخواست قبل ازگرفتاری کی سماعت کے دوران ریمارکس
 لوگ چاہتے ہیں سارے کام سپریم کورٹ کرے‘ ریاست کی کیا بات کریں تین وزیراعظم مارے گئے، تینوں وزرائے اعظم کے مقدمات کا کیا بنا:جسٹس جمال مندوخیل‘وزیراعظم ایک دن وزیراعظم ہائوس تو دوسرے دن جیل میں ہوتا ہے:جسٹس شہزاد ملک

اسلام آباد(آن لائن‘مانیٹرنگ ڈیسک )سپریم کورٹ میں قتل کے ملزم اسحاق کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت کرتے ہوئے ایس پی سپریم کورٹ کوہدایت کی ہے  ملزم کو گرفتار کرکے جیل حکام کے حوالے کیاجائے۔جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے ہیں  جب تک ریاستی ادارے پولیٹیکل انجینئرنگ میں ہوگی یہ ہی حال ہوگا ،2017 سے یہ مقدمات سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے جبکہ سارے ادارے سیاسی مخالفین کے پیچھے پڑے ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے ریاست کی کیا بات کریں تین وزیراعظم ماردیے گئے ،تینوں وزرااعظم کے مقدمات کا کیا بنا ،بلوچستان میں سینئر ترین جج بھی مارگیا کچھ پتہ نہیں چلا ،اصل بات یہ ہے کچھ کرنے خواہش نہیں ،جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے ہیں،جس ملک میں وزیراعظم کا یہ حال ہو عام آدمی کا کیا حال ہوگا وزیراعظم ایک دن وزیراعظم ہاوس تو دوسرے دن جیل میں ہوتا ہے۔ کسی کو پتہ نہیں کس نے کتنے دن وزیراعظم رہنا ہے ،انھوں نے یہ ریمارکس جمعہ کے روزدیے ہیں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ،جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی اس دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ دیگر دو صوبوں کی نسبت سندھ پنجاب میں تفتیش انتہائی ناقص ہے جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ آئین پر عمل ہوتا تو یہ حالات نہ ہوتے جسٹس جمال ن کہاکہ لوگوں کو اداروں پر یقین نہیں،لوگ چاہتے ہیں سارے کام سپریم کورٹ کرے جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ یہ ادارہ بھی اتنا سچ جتنا بولتا ہے جتنا ہمارا معاشرہ ،چالیس سال بعد منتخب وزیراعظم کے قتل کا اعتراف کیا گیا ،وزیراعظم کے قتل سے بڑا جرم کیا ہوسکتا ہے،کسی کو کو ذمہ دار قرار دے کر سزا دی جانی چاہیے تھی ،بعدازاں عدالت نے ملزم کوجیل حکام کے حوالے کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں تعینات ایس پی کوہدایات جاری کیں ،واضح رہے کہ ملزم اسحاق اس سے پہلے ضمانت حاصل کرنے کے بعد فرار ہوگیا تھا۔