ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جان ہے، ریاست ہے تو نام ہے، بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر شامل ہیں:ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشت گرد ہتھیار ڈال دیں ورنہ ختم کردینگے اچھی حکمرانی ملکی سلامتی وخوشحالی کیلئے ناگزیر  ترجمان پاک فوج
 محسن نقوی کا بیان  ذاتی رائے ہے‘نئے صوبے بنانے کیلئے عوام کی رائے ضروری ہے‘اچھی حکمرانی کے بغیر مسائل حل نہیں ہوسکتے‘مسائل حل نہیں ہورہے اس کا مطلب ہے گڈ گورننس کیلئے کچھ کرنا پڑے گا
 بدقسمتی سے ہم ہارڈ اسٹیٹ نہیں، کیوں؟ ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب ایسی ریاست ہے جہاں آئین و قانون سب کیلئے یکساں ہو، جس میں تمام معاملات آئین و قانون کے مطابق ہوں‘شہیدوں کے بارے میں جو بات مولانا نے کہی وہ ناقابل فہم ہے
دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کریں گے‘ جان بوجھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے  بلوچستان میں حالات خراب ہیں جبکہ حقائق اس سے مختلف ہیں‘ہر شہری کی پہلی اور آخری شناخت پاکستانی ہونی چاہیے
پاکستان میں تمام معاملات آئین و قانون کے مطابق چلنے چاہئیں‘ بلوچستان کے بعض ایلیٹ اور سردار نہیں چاہتے  غریب کا بچہ تعلیم حاصل کرے یا آگے بڑھے: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرنس
راولپنڈی(ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری  نے کہا ہے  سیکیورٹی فورسز نے رواں سال اب تک دہشت گردی کے خلاف 40,348 آپریشن کیے جن میں 2,084 مصدقہ دہشت گرد مارے گئے۔ دہشتگردوں کو سمجھ آگیا ہے کہ ان سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی، دہشتگردوں کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا ہم انہیں ختم کردیں گے۔راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف سب سے زیادہ آپریشن بلوچستان میں کیے گئے جبکہ خیبر پختون خوا میں 1,971 آپریشن ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز نے اوسطاً روزانہ 194 آپریشن کیے اور ہر روز تقریباً 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ رواں سال دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران 819 شہادتیں ہوئیں جبکہ مجموعی طور پر 28 خودکش حملوں کے واقعات پیش آئے۔ ٹانک اور کراچی میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہری ملوث تھے۔ دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، انہیں یا تو آئین اور قانون کے مطابق ہتھیار ڈالنا ہوں گے یا پھر سیکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گی۔انہوں نے کہا  ہارڈ اسٹیٹ وہ ہوتی ہے جہاں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلائے جائیں۔ جان بوجھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں جبکہ حقائق اس سے مختلف ہیں۔ پاکستان ہارڈ اسٹیٹ نہیں بلکہ ہارڈ اسٹیٹ سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہوں، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریاست کو فوج چلا رہی ہو۔انہوں نے کہا کہ ریاست ہو گی تو سیاست، شناخت اور تمام ادارے قائم رہیں گے، حقوق کے ساتھ فرائض بھی ہوتے ہیں، ریاست کے ساتھ وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے اور ہر فرد کی ذمے داری ہے کہ آئین و قانون کی پابندی کرے۔ ہر شہری کی پہلی اور آخری شناخت پاکستانی ہونا چاہیے کیونکہ ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جان ہے۔انہوں نے کہا کہ اب بلوچستان کے بنیادی مسائل تک پہنچنے کی ضرورت ہے، بعض بااثر طبقے اور سردار نہیں چاہتے کہ غریب کا بچہ آگے بڑھے اور ترقی کرے، ہم مخصوص عناصر سے نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام سے بات کریں گے اور ان کے مسائل کے حل پر توجہ دی جائے گی۔ بلوچستان کے حوالے سے جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، بلوچستان سے متعلق احساسِ محرومی کے حوالے سے بھی حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں گے، پاکستان میں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہے اور تمام معاملات آئین و قانون کے مطابق چلنے چاہئیں۔ بلوچستان کے بعض ایلیٹ اور سردار نہیں چاہتے کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل کرے یا آگے بڑھے، اس لیے ریاست بلوچستان کے عوام سے براہِ راست بات کرے گی کیونکہ یہی عناصر ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ دہشت گرد مزدوروں کو قتل کرتے ہیں، ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ جو یونیورسٹی میں پڑھائے گا اسے بھی قتل کر دیا جائے گا۔ معرکہ حق میں ناکامی کے بعد دشمن نے بلوچستان پر توجہ مرکوز کی جبکہ بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈا دہشت گردی ہے۔انہوں نے کہا  شہیدوں کے بارے میں جو بات مولانا نے کہی وہ ناقابل فہم ہے۔ افغان طالبان دہشتگردوں کو سپورٹ کر رہے ہیں، پاکستان کو دہشتگردی کیخلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، ایمنسٹی رپورٹ میں سارے ذرائع افغان حکومت کا حوالہ دے رہے ہیں، ایمنسٹی افغان طالبان کی جھوٹی گواہی پر رپورٹ بنا رہی ہے۔انہوں نے کہا محسن نقوی نے جو بیان دیا وہ انکی ذاتی رائے ہے، اس پر بات نہیں کروں گا
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم ہارڈ اسٹیٹ نہیں، کیوں؟ ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب ایسی ریاست ہے جہاں آئین و قانون سب کیلئے یکساں ہو، جس میں تمام معاملات آئین و قانون کے مطابق ہوں۔ جہاں  ایلیٹ ازم  نہ ہو، اس کا مطلب فوج کے زیر انتظام ریاست یا مسلح افواج کے غلبے والی ریاست نہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جیسے ہارڈ اسٹیٹ کی تشریح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جہاں آئین و قانون سب کیلئے برابر ہو اس ہارڈ اسٹیٹ میں سیکیورٹی اور استحکام ہوگا اس میں شکایات نہیں ہوں گی۔