شہر قائد میں بجلی کی بندش اور بارش کے پانی نے شہریوں کو مشکلات میں ڈال دیا

شہر قائد میں بجلی کی بندش اور بارش کے پانی نے شہریوں کو مشکلات میں ڈال دیا

شہر قائد میں موسلادھار بارش تھمنے کے باوجود بجلی کی فراہمی تاحال مکمل طور پر بحال نہ ہوسکی۔

بارش کے بعد 48 گھنٹوں سے زائد وقت گزرنے کے باوجود مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش نے شہریوں کو اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔بیشتر علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ کے سبب شہریوں کا صبر جواب دے گیا ہے۔ ملیر سمیت کئی علاقوں میں مکینوں نے کے الیکٹرک کی مبینہ غفلت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ ملیر میں علاقہ مکینوں نے کے الیکٹرک دفتر کے باہر دھرنا دیا اور دونوں ٹریک بند کر دیے، جس کے باعث ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔یاد رہے کہ پیر کی رات ہلکی بارش کا سلسلہ شروع ہوا تھا، تاہم منگل کی صبح سے موسلادھار بارشوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔ کے الیکٹرک نے حفاظتی اقدامات کے نام پر مختلف علاقوں میں بجلی بند کر دی تھی جو اب تک بحال نہیں کی گئی۔ اس طویل بندش کے باعث شہریوں کے معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئے ہیں لیکن کے الیکٹرک حکام کی جانب سے بجلی کی بحالی کے لیے کوئی واضح اقدامات نظر نہیں آ رہے۔

دوسری جانب بارش کے پانی نے بھی شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ متعدد علاقے اب بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جس کے باعث ٹریفک کا نظام متاثر ہے۔ ملیر ہالٹ سے ماڈل قبرستان جناح ایونیو روڈ آنے اور جانے والے دونوں راستے ٹریفک کے لیے بند ہیں اور ٹریفک کو ماڈل قبرستان کٹ سے ائیرپورٹ کی طرف موڑا جا رہا ہے۔ اسی طرح ملیر ہالٹ سے آنے والی ٹریفک کو سیدھا شارع فیصل کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بجلی بحال کی جائے اور بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ زندگی معمول پر آسکے۔