بین الاقوامی شہرت یافتہ جج فرینک کیپریو طویل عرصے تک انسانی ہمدردی اور انصاف کے جذبے کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔
امریکی ریاست رہوڈ آئی لینڈ کے شہر پروویڈنس میں طویل عرصہ خدمات انجام دینے والے جج کیپریو کئی سالوں تک مقدمات کی سماعت کے دوران اپنے منفرد انداز اور متاثر کن فیصلوں کے باعث دنیا بھر میں مقبول تھے۔فرینک کیپریو طویل عرصے سے لبلبے کے کینسر میں مبتلا تھے اور ان کا انتقال ایک طویل جنگ کے بعد ہوا۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں بتایا گیا کہ وہ نہ صرف ایک معزز جج کے طور پر بلکہ ایک محبت کرنے والے انسان کے طور پر یاد کیے جائیں گے۔ انتقال سے قبل انہوں نے ہسپتال میں بستر مرگ پر اپنے چاہنے والوں سے دعا کی اپیل کی تھی۔جج کیپریو کے فیصلے اس انداز کے تھے کہ وہ مجرم کی ذہنیت اور جرم کے پس منظر کو سمجھ کر ایسا فیصلہ کرتے جو مجرم کو آئندہ دوبارہ جرم کرنے سے روکے۔
یہی وجہ تھی کہ ان کی سماعتیں اور فیصلے سوشل میڈیا پر دنیا بھر میں وائرل ہوتے اور لاکھوں افراد ان کے فالور بن گئے۔گورنر ڈین مک نے جج کیپریو کے انتقال پر پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا۔ گورنر نے کہا کہ 35 برس تک کمرہ عدالت میں خدمات انجام دینے والے فرینک کیپریو ایک حقیقی خزانہ تھے جنہوں نے ثابت کیا کہ انصاف کو انسانیت سے جوڑنے سے حیرت انگیز نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔فرینک کیپریو کی خدمات کو کئی برس تک ایمی ایوارڈ کے لیے نامزد شو "Caught in Providence" میں دکھایا گیا، جہاں ان کے انسان دوست اور متاثر کن فیصلوں نے انہیں دنیا کے بہترین جج کے طور پر شہرت دلائی۔