اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ رہنما اسلام آباد میں جاری مذاکرات کی کامیابی کے خواہاں نہیں ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی قیادت سمجھتی ہے کہ مذاکرات ناکام رہیں تو اسے ایران اور لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے دوران یہ صورتحال عارضی طور پر امریکہ کی مداخلت کے باعث کچھ حد تک رک گئی ہے، تاہم اسرائیلی حکومتی حلقے اسے اپنے اسٹریٹجک اہداف کے لیے غیر موزوں سمجھ رہے ہیں۔بنیامین نیتن یاہو پر اندرونی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے، خاص طور پر شمالی علاقوں میں سکیورٹی صورتحال اور حزب اللّٰہ کے حملوں کے خدشات کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع نے لبنانی تنظیم حزب اللّٰہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صورتحال نہ بدلی تو سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے کے خدشات موجود ہیں اور فریقین کے مؤقف ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دے رہے ہیں۔