اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو پانچ سال بعد کرپشن کے مقدمات میں عدالت میں پیش ہوئے ہیں، جس کی سماعت تل ابیب میں ایک بم پروف بنکر ہال میں کی گئی۔
یہ سماعت غزہ میں اسرائیلی حملوں اور داخلی سیاسی بحران کے باوجود ہو رہی تھی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اس عدالت کی کارروائی میں نیتن یاہو پر تین مختلف مقدمات میں فراڈ اور ایک مقدمے میں رشوت ستانی کے الزامات ہیں۔اسرائیلی وزیرِ اعظم کے خلاف یہ مقدمات ان کے دورِ حکومت میں مبینہ طور پر کی جانے والی کرپشن کی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آئے۔ نیتن یاہو کی گواہی 3 دن تک جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، اور اس دوران ان سے سوالات کیے جائیں گے تاکہ ان کے الزامات کے حوالے سے وضاحت لی جا سکے۔
اس سماعت کے دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم کی حمایت میں حکومتی وزیروں اور پارٹی رہنماؤں نے عدالت میں شرکت کی، تاہم غزہ جنگ اور نیتن یاہو کے فیصلوں کے مخالفین نے ان کے خلاف مظاہرے کیے۔ نیتن یاہو نے مقدمہ ملتوی کرنے کی کوشش کی تھی، مگر عدالت نے ان کی درخواستیں مسترد کر دیں، جس کے بعد ان کی گواہی کا عمل شروع ہوا۔اگر نیتن یاہو کی گواہی کے دوران کوئی نئی تفصیلات سامنے آئیں، تو انہیں مزید وضاحت کے لیے دوبارہ بلایا جا سکتا ہے۔