ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران امریکی دھمکیوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، تاہم تہران مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر نے امن مذاکرات کے لیے متعلقہ حکام کو اختیارات دے دیے ہیں۔گورنرز اور میئرز سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز اور بحرانوں پر قابو پانے کے لیے عوام کے تعاون اور حمایت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران موجودہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن امریکی دھمکیوں کے آگے کسی صورت سر نہیں جھکائے گا۔صدر پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کا تحفظ کرتے ہوئے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق ملک کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے اندرونی اتحاد اور عوامی تعاون بھی انتہائی اہم ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران کے افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کرنے کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اس اقدام پر کسی صورت رضامند نہیں ہوگا۔اسماعیل بقائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام ہمیشہ پُرامن مقاصد کے لیے رہا ہے اور اب بھی اسی نوعیت کا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کو حملے کی دھمکیاں دینا بھی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔